میں
1376 Misre
- میں وادی طلب میں ہوا جملہ تن غرق
- چھوڑے نہ چشم میں تپش دل نشان اشک
- کعبے میں جارہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں
- طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ
- دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو
- یا میں غریب کشور گفت و شنود تھا
- تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
- آنکھوں میں انتظار سے جاں پر شتاب ہے
- ممکن نہیں کہ ہو دل خوباں میں کارگر
- جو دانہ دام میں ہے سو اشک کباب ہے
- میں اور صد ہزار نوائے جگر خراش
- ذہن میں خوبی تسلیم و رضا ہے تو سہی
- نہ سہی ہم سے پر اس بت میں وفا ہے تو سہی
- نقل کرتا ہوں اسے نامۂ اعمال میں میں
- ہے وصل ہجر عالم تمکین و ضبط میں
- بہار اس کی کف مشاطہ میں بالیدنی جانے
- مژہ پیچک میں مہ کی سوزن آسا چیدنی جانے
- نگہ شمشیر میں جوں جوہر آرامیدنی جانے
- صدف کی ہے ترے نقش قدم میں کیفیت
- سر شک چشم اسدؔ کیوں نہ اس میں گوہر ہو
- رچ گیا جوش صفا سے زلف کا اعضا میں عکس
- اے نوا ساز تماشا سربکف جلتا ہوں میں
- یک طرف جلتا ہے دل اور یک طرف جلتا ہوں میں
- مدعا گم کردہ ہر سو ہر طرف جلتا ہوں میں
- بے تکلف آپ پیدا کر کے تف جلتا ہوں میں
- جوں چراغان دوالی صف بہ صف جلتا ہوں میں
- شمع ہوں تو بزم میں جا پاؤں غالبؔ کی طرح
- بے محل اے مجلس آراے نجف جلتا ہوں میں
- جس دل میں کہ تابکے سماجائے
- میں بھی ہوں محرم اسرار کہوں یا نہ کہوں
- اپنے دل ہی سے میں احوال گرفتاری دل
- ہوں اک آفت میں گرفتار کہوں یا نہ کہوں
- میں تو دیوانہ ہوں اور ایک جہاں ہے غماز
- کہ رگ سے سنگ میں تخم شرر کا ریشہ پیدا ہے
- نہاں ہے گوہر مقصود جیب خود شناسی میں
- مجھے شب ہاے تاریک فراق شعلہ رویاں میں
- ہر طرح ہوں میں از خود رمیدہ
- اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے
- فقط اک شعر میں انداز رسا رکھتے تھے
- صدا ہے کوہ میں حشر آفریں اے غفلت اندیشاں
- کہ صحرا فصل گل میں رشک ہے بت خانۂ چیں کا
- تپیدن دل کو سوز عشق میں خواب فرامش ہے
- رکھا اسپند نے مجمر میں پہلو گرم تمکیں کا
- نہ سووے آبلوں میں گر سر شک دیدۂ نم سے
- خمیدن نشۂ مے میں ہے شرم زشت اعمالی
- دماغ زہد میں آخر غرور بے گناہی ہے
- ترحم میں ستم کوشوں کے ہے سامان خونریزی
- رہا کس جرم سے میں بیقرار داغ ہم طرحی
- کہ شب خیال میں بوسوں کا ازدحام رہا
- صفاے اشک میں داغ جگر جلوہ دکھاتے ہیں
- برنگ ریشہ تاک آبلے جاوے میں پنہاں ہیں
- اسدؔ بزم تماشا میں تغافل پردہ داری ہے
- نگیں میں جوں شرار سنگ ناپید ہے نام اس کا
- لڑاوے گروہ بزم مے کشی میں قہر و شفقت کو
- کرے ہے حسن خوباں پردے میں مشاطگی اپنی
- نہاں ہیں نالۂ ناقوس میں در پردہ یا رب ہا
- ہوں میں وہ سبزہ کہ زہراب اگاتا ہے مجھے
- آئنہ خانے میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے
- میں ہوں اور حیرت جاوید مگر ذوق خیال
- زندگی میں تو وہ محفل سے اٹھا دیتے تھے
- کہ اس میں ریزۂ الماس جزو اعظم ہے
- وگر نہ بحر میں ہر قطرہ چشم پر نم ہے
- چمن میں کون ہے طرز آفرین شیوۂ عشق
- بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
- ظاہرا ہے اس چمن میں لال مادر زاد گل
- گر کرے انجام کو آغاز ہی میں یاد گل
- شاخ گل میں ہو نہاں جوں شانہ در شمشاد گل
- گلشن آباد دل مجروح میں ہوجاے ہے
- فصل گل میں دیدۂ خونیں نگاہان جنوں
- خار شمع آئنہ آتش میں جوہر ہو گیا
- حسرت آباد جہاں میں ہے الم غم آفریں
- وصل میں دل انتظار طرفہ رکھتا ہے مگر
- آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صدا
- ہر کوئی درماندگی میں نالے سے ناچار ہے
- وصل میں بخت سیہ نے سنبلستاں گل کیا
- موسم گل میں مئے گلگوں حلال مے کشاں
- انتظار جلوہ کاکل میں ہر شمشاد باغ
- طوق ہے گردن قمری میں رگ بالیدہ
- ورنہ کانٹے میں تلے ہے سخن سنجیدہ
- خلوت بال و پر قمری میں وا کر راہ شوق
- عکس گل ہاے سمن سے چشمہ ہاے باغ میں
- حسن و رعنائی میں وہم صد سر و گردن ہے فرق
- فرط بے خوابی سے ہیں شب ہاے ہجر یار میں
- جانتے ہیں جوشش سوداے زلف یار میں
- شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے
- دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمنائیں اسدؔ
- رہ خوابیدہ میں افگندنی ہے طرح منزل ہا
- بہ وہم زر گرہ میں باندھتے ہیں برق حاصل ہا
- جوں شمع غوطہ داغ میں کھا گر وضو نہ ہو
- دل دے کف تغافل ابروے یار میں
- برق بہار سے ہوں میں پادر حنا ہنوز
- چشم نرگس میں نمک بھرتی ہے شبنم سے بہار
- غالبؔ زبس کہ سوکھ گئے چشم میں سرشک
- مے خانہ جگر میں یہاں خاک بھی نہیں
- میں دور گرد قرب بساط نگاہ تھا
- سوزن میں تھا نہفتہ گل پیرہن ہنوز
- میں ہوں سراب یک تپش آموختن ہنوز
- زندان تحمل میں مہمان تغافل ہیں
- رکھ فکر سخن میں تو معذور مجھے غالبؔ
- سمجھا ہوا ہوں عشق میں نقصاں کو فائدہ
- میں ہمہ حیرت جنوں بے تاب دوران خمار
- غنچے میں دل تنگ ہے حوصلۂ گل ہنوز
- دل میں ہے سوداے زلف مست تغافل ہنوز
- چار سوے عشق میں صاحب دکانی مفت ہے
- یک نفس ہر یک نفس جاتا ہے قسط عمر میں
- دامن گردوں میں رہ جاتا ہے ہنگام وداع
- کچھ نہیں حاصل تعلق میں بغیر از کشمکش
- خلوت سنگ میں ہے نالہ طلبگار ہنوز
- چشم شبنم میں نہ ٹوٹا مژہ خار ہنوز
- نقش پا میں ہے تب گرمی رفتار ہنوز
- میں آپ سے جا چکا ہوں اب بھی
- شایستۂ گدائی ہر در نہیں ہوں میں
- خیرات خوار محض ہوں نوکر نہیں ہوں میں
- رز میں جو انگور نکلا عقدۂ مشکل ہوا
- پرواز فنا مشکل میں عجز تن آسانی
- خوں ہو قفس دل میں اے ذوق پر افشانی
- دشت الفت میں ہے خاک کشتگاں محبوس و بس
- ہے تصور میں نہاں سرمایۂ صد گلستاں
- راہ صحراے حرم میں ہے جرس ناقوس و بس
- حصار شعلۂ جوالہ میں عزلت گزیں پایا
- دل بیتاب کہ سینے میں دم چند رہا
- لکھ سکا میں نہ اسے شکوۂ پیماں شکنی
- میں پرستندۂ روے صنم چند رہا
- نہاں ہر گرد باد دشت میں جام سفالی ہے
- لباس نظم میں بالیدن مضمون عالی ہے
- رہا میں ضعف سے شرمندۂ نو آموزی
- دیا یاروں نے بے ہوشی میں درماں کا فریب آخر
- ہوا سکتے سے میں آئینۂ دست طبیب آخر
- ملیں گے منزل الفت میں ہم اور عندلیب آخر
- نشہ مے کے تصور میں نگہبانی عبث
- وادی حسرت میں پھر آشفتہ جولانی عبث
- ہمیشہ ہاتھ میں میرے مرا گریباں ہے
- خط نوخیز کی آئینے میں دی کس نے آرایش
- صدف سے آسیاے آب میں ہے دانہ گوہر کا
- فتادگی میں قدم استوار رکھتے ہیں
- بساط ہیچ کسی میں برنگ ریگ رواں
- ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
- فسردگی میں ہے فریاد بے دلاں تجھ سے
- اسدؔ طلسم قفس میں رہے قیامت ہے
- نفس تیری گلی میں خوں ہو اور بازار رنگیں ہے
- گردش میں لا تجلی صد ساغر تسلی
- دل دے تو ہم بتا دیں مٹھی میں تیری کیا ہے
- گرفتاری میں فرمان خط تقدیر ہے پیدا
- اسدؔ جس شوق سے ذرے تپش فرسا ہوں روزن میں
- ہے بہاراں میں خزاں حاصل خیال عندلیب
- جو اشک گرا خاک میں ہے آبلۂ پا
- ہے زر گل بھی نظر میں جوہر فولاد یاں
- جوں زلف یار ہوں میں سراپا شکستہ دل
- ہے سر نوشت میں رقم وا شکستگی
- ہے سنگ ظلم چرخ سے میخانے میں اسدؔ
- کہ بعد از صاف مے ساغر میں دردبادہ آتا ہے
- نہیں ہے مزرع الفت میں حاصل غیر پامالی
- محیط دہر میں بالیدن از ہستی گزشتن ہے
- دیار عشق میں جاتا ہے جو سودا گری ساماں
- صنوبر گلستاں میں بادل آزادہ آتا ہے
- لگاوے خانۂ آئینہ میں روے نگار آتش
- وگر نہ خواب کی مضمر ہیں افسانے میں تعبیریں
- ہے کف مشاطہ میں آئنۂ گل ہنوز
- طوق قمری میں ہے سرد باغ ریحان سفال
- آخر اس پردے میں تو ہنستی تھی اے صبح وصال
- میں الفت مژگاں میں جو انگشت نما ہوں
- خوں دل میں جو میرے نہیں باقی تو پھر اس کی
- آتی نہیں پنجے میں بس اس کے نظر انگشت
- مژگاں کی محبت میں جو انگشت نما ہوں
- کس رتبہ میں باریکی و نرمی ہے کہ جو گل
- آتی نہیں پنجہ میں بس اس کے نظر انگشت
- دام گاہ عجز میں سامان آسایش کہاں
- پنبۂ میناے مے رکھ لو تم اپنے کان میں
- دہان زخم میں آخر ہوئی زباں پیدا
- یک پر زدن تپش میں ہے کار قفس تمام
- گل غنچگی میں غرقۂ دریاے رنگ ہے
- شاخ گل جنبش میں ہے گہوارہ آسا ہر نفس
- قہرمان عشق میں حسرت سے لیتے ہیں خراج
- ہے سواد چشم قربانی میں یک عالم مقیم
- کارخانے سے جنوں کے بھی میں عریاں نکلا
- کچھ کھٹکتا تھا مرے سینے میں لیکن آخر
- دل میں پھر گریے نے اک شور اٹھایا غالبؔ
- ساقیا دے ایک ہی ساغر میں سب کو مے کہ آج
- میں بھی رک رک کے نہ مرتا جو زباں کے بدلے
- دہن شیر میں جا بیٹھیے لیکن اے دل
- کہوں کیا گرم جوشی مے کشی میں شعلہ رویاں کی
- مری قسمت میں یوں تصویر ہے شب ہاے ہجراں کی
- ہمیشہ مجھ کو طفلی میں بھی مشق تیرہ روزی تھی
- سیاہی ہے مرے ایام میں لوح دبستاں کی
- ہنر پیدا کیا ہے میں نے حیرت آزمائی میں
- حباب بحر کے ہے آبلوں میں خار ماہی کا
- نظر بند تصور ہے قفس میں لطف آزادی
- تھا خواب میں کیا جلوہ پرستار زلیخا
- ہے بالش دل سوختگاں میں پر طاؤس
- خور قطرۂ شبنم میں ہے جوں شمع بہ فانوس
- وہ جلوہ کر کہ نہ میں جانوں اور نہ تو جانے
- لہو میں ہاتھ کے بھرنے کو جو وضو جانے
- ہے ہر اک فرد جہاں میں ورق ناخواندہ
- میکدے میں زدل افسردگی بادہ کشاں
- خلوت آبلۂ پا میں ہے جولاں میرا
- کس زباں میں ہے لقب خواب پریشاں میرا
- شب کہ وہ گل باغ میں تھا جلوہ فرما اے اسدؔ
- ہر شکست قیمت دل میں صداے خندہ ہے
- ہے عدم میں غنچہ محو عبرت انجام گل
- اسدؔ مجھ میں ہے اس کے بوسۂ پا کی کہاں جرأت
- کہ میں نے دست و پا باہم بہ شمشیر ادب کاٹے
- وہ بے دماغ منت اقبال ہوں کہ میں
- وہ التماس لذت بیداد ہوں کہ میں
- گر نہ باندھے قلزم الفت میں سر جاے کدو
- رہن خاموشی میں ہے آرایش بزم وصال
- ہے اسدؔ نقصاں میں مفت اور صاحب سرمایہ تو
- میں چشم وا کشادہ و گلشن نظر فریب
- اے بے خبر میں نغمۂ چنگ خمیدہ ہوں
- یارب میں کس غریب کا بخت رمیدہ ہوں
- میں بے ہنر کہ جوہر آئینہ تھا عبث
- پاے نگاہ خلق میں خار خلیدہ ہوں
- شام ساے میں بہ تاراج سحر پنہاں ہے
- خلوت دل میں نہ کر دخل بجز سجدہ شوق
- آستاں میں صفت آئنہ در پنہاں ہے
- ورنہ ہر سنگ کے باطن میں شرر پنہاں ہے
- ہر برگ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا
- اب میں ہوں اور ماتم یک شہر آرزو
- گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو کہ میں
- جس دشت میں وہ شوخ دو عالم شکار تھا
- نہاں ہے مردمک میں شوق رخسار فروزاں سے
- نمک ہے شمع میں جوں موم جادو خواب بستن کا
- ہوا نے ابر سے کی موسم گل میں نمد بانی
- تکلف عافیت میں ہے دلا بند قبا وا کر
- عیادت سے اسدؔ میں بیشتر بیمار ہوتا ہوں
- ہوں خلوت فسردگی انتظار میں
- کنج میں بیٹھا رہوں یوں پر کھلا
- رہروی میں پردۂ رہبر کھلا
- کیا ضعف میں امید کو دل تنگ نکالوں
- میں خار ہوں آتش میں چبھوں رنگ نکالوں
- کس پردے میں فریاد کی آہنگ نکالوں
- تصویر کے پردے میں مگر رنگ نکالوں
- آئیں جس بزم میں وہ لوگ پکار اٹھتے ہیں
- چشم میں توڑے نمکداں تا شکر خوابی کرے
- کیوں نہ دلی میں ہر اک ناچیز نوابی کرے
- میں ہوں مشتاق جفا مجھ پہ جفا اور سہی
- حسن میں حور سے بڑھ کر نہیں ہونے کے کبھی
- کوئی دنیا میں مگر باغ نہیں ہے واعظ
- کیوں نہ فردوس میں دوزخ کو ملا لیں یارب
- میں ہوں سراب یک تپش آموختن ہنوز
- مجلس شعلہ عذاراں میں جو آجاتا ہوں
- شمع ساں میں تہ دامان صبا جاتا ہوں
- جس گزرگاہ سے میں آبلہ پا جاتا ہوں
- مرگ شیریں ہو گئی تھی کوہکن کی فکر میں
- تھا حریر سنگ سے قطع کفن کی فکر میں
- ہوں سپند آسا وداع انجمن کی فکر میں
- کوچہ دے ہے زخم دل صبح وطن کی فکر میں
- رنگ کی گرمی ہے تاراج چمن کی فکر میں
- شوخی سوزن ہے ساماں پیرہن کی فکر میں
- مغز سر خواب پریشاں ہے سخن کی فکر میں
- مجھ میں اور مجنوں میں وحشت ساز دعوا ہے اسدؔ
- برگ برگ بید ہے ناخن زدن کی فکر میں
- منت کشی میں حوصلہ بے اختیار ہے
- تا گل زجگر زخم میں ہے راہ نفس کو
- پیدا ہوئے ہیں ہم الم آباد جہاں میں
- بہ قدر رنگ یاں گردش میں ہے پیمانہ محفل کا
- جو تو دریاے مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
- مجھے راہ سخن میں خوف گمراہی نہیں غالبؔ
- حسرت عرض تمنا میں ہوں رنجور ہنوز
- پیرہن میں ہے غبار شرر طور ہنوز
- زخم دل میں ہے نہاں غنچۂ پیکان نگار
- پا پر از آبلہ راہ طلب مے میں ہوا
- چمن میں کچھ نہ چھوڑا تو نے غیر از بیضۂ قمری
- عدم میں بہر فرق سرد مشت خاک باقی ہے
- مری محفل میں غالبؔ گردش افلاک باقی ہے
- مگر طوفان مے میں پیچش موج صبا گم ہو
- کہ موج گریہ میں صد خندۂ دنداں نما گم ہو
- فرو ہوتا ہے سر سجدے میں اے دست دعا گم ہو
- کہ جس کے ہاتھ میں مانند خوں رنگ حنا گم ہو
- زبس آتش نے فصل رنگ میں رنگ دگر پایا
- چراغ گل سے ڈھونڈھے ہے چمن میں شمع خار اپنا
- طلسم رنگ میں باندھا تھا عہد استوار اپنا
- نہ چھوڑو محفل عشرت میں جا اے میکشاں خالی
- نہ دوڑا ریشۂ دیوانگی صحن بیاباں میں
- نالۂ دل میں شب انداز اثر نایاب تھا
- آسمان سفلہ جس میں یک کف سیلاب تھا
- موج سے پیدا ہوئے پیراہن دریا میں خار
- قلزم ذوق نظر میں آئنہ پایاب تھا
- انتظار صید میں اک دیدۂ بے خواب تھا
- میں نے روکا رات غالبؔ کو وگرنہ دیکھتے
- اس کی سیل گریہ میں گردوں کف سیلاب تھا
- پائی جگہ بھی دل میں تو ہو کر غبار حیف
- بنتا اسدؔ میں سرمۂ چشم رکاب یار
- عالم تسلیم میں یہ دعوی آرائی عبث
- خراب آباد غربت میں عبث افسوس ویرانی
- دریغا بستن رخت سفر سے ہو کے میں غافل
- نامراد جلوہ ہر عالم میں حسرت گل کرے
- اثر میں یاں تک اے دست دعا دخل تصرف کر
- ہوا نے ابر سے کی موسم گل میں نمد بانی
- تکلف عاقبت میں ہے دلا بند قبا وا کر
- تب خجلت نے یہ نبض رگ گل میں حرارت کی
- اسدؔ کھائے ہوئے سرمے نے آنکھوں میں بصارت کی
- خرابات جنوں میں ہے اسدؔ وقت قدح نوشی
- نہاں کیفیت مے میں ہے سامان حجاب اس کا
- عیاں کیفیت میخانہ ہے جوے گلستاں میں
- اٹھائے ہیں جو میں افتادگی میں متصل صدمے
- میں دشت غم میں آہوئے صیاد دیدہ ہوں
- میں معرض مثال میں دست بریدہ ہوں
- میں یوسف بقیمت اول خریدہ ہوں
- ہرگز کسی کے دل میں نہیں ہے مری جگہ
- ہوں میں کلام نغز ولے نا شنیدہ ہوں
- اہل ورع کے حلقے میں ہر چند ہوں ذلیل
- پر عاصیوں کے زمرے میں میں برگزیدہ ہوں
- کھینچتا ہوں اپنی آنکھوں میں سلائی نیل کی
- پیری میں بھی کمی نہ ہوئی تاک جھانک کی
- ہستی میں نہیں شوخی ایجاد صدا ہیچ
- آہنگ اسدؔ میں نہیں جز نغمۂ بیدل
- اس بیاباں میں گرفتار جنوں ہوں کہ جہاں
- ہر نظر میں داغ مے خال لب پیمانہ تھا
- شب کہ باندھا خواب میں آنے کا قاتل نے جناح
- دود کو آج اس کے ماتم میں سیہ پوشی ہوئی
- شکوۂ یاراں غبار دل میں پنہاں کر دیا
- اے اسدؔ رویا جو دشت غم میں میں حیرت زدہ
- میں بھی ہوں شمع کشتہ گر داغ خوں بہا ہے
- بت خانے میں اسدؔ بھی بندہ گاہ گاہے
- ہے تاک میں سلم ہوس صد قدح شراب
- جوں نخل شمع ریشے میں نشو و نما گرو
- تیشے کی کوہسار میں ہے یک صدا گرو
- سازش صلح بتاں میں ہے نہاں جنگیدن
- نکہت گل کو ہے غنچے میں نفس دزدیدن
- گلشن زخم کھلاتا ہے جگر میں پیکاں
- چمن دہر میں ہوں سبزۂ بیگانہ اسدؔ
- سحر گہ باغ میں وہ حیرت گلزار ہو پیدا
- اسدؔ مایوس مت ہو گرچہ رونے میں اثر کم ہے
- پانی نہ چوائے اس کے منھ میں
- گل مے میں بھگو بھگو نچوڑے
- سرشک آشفتہ سر تھا قطرہ زن مژگا ں سے جانے میں
- رہے یاں شوخی رفتار سے پا آستانے میں
- گل اقبال خس ہے چشم بلبل آشیانے میں
- کہ طوطی قفل زنگ آلودہ ہے آئینہ خانے میں
- ترے کوچے میں بنے مشاطہ واماندگی قاصد
- پر پرواز زلف ناز ہے ہدہد کے شانے میں
- نمدور آب ہے اے سادہ پرکار اس بہانے میں
- کہ یاں گم کر جبیں سجدہ فرسا آستانے میں
- قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشت قیس میں آنا
- تعجب سے وہ بولا یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں
- نہ کر سر گرم اس کافر کی الفت آزمانے میں
- خمخانۂ جنوں میں دماغ رسیدہ ہوں
- کی متصل ستارہ شماری میں عمر صرف
- میں عندلیب گلشن نا آفریدہ ہوں
- فرد آئینہ میں بخشیں شکن خندۂ گل
- شب وصال میں مونس گیا ہے بن تکیہ
- رکھے جو بیچ میں وہ شوخ سیمتن تکیہ
- جو بعد قتل مرا دشت میں مزار بنا
- شب فراق میں یہ حال ہے اذیت کا
- یاں ہجوم اشک میں تار نگہ نایاب تھا
- نالۂ دل میں شب انداز اثر نایاب تھا
- آسمان سفلہ جس میں یک کف سیلاب تھا
- موج سے پیدا ہوئے پیراہن دریا میں خار
- قلزم ذوق نظر میں آئینہ پایاب تھا
- انتظار عید میں اک دیدۂ بے خواب تھا
- میں نے روکا رات غالبؔ کو وگرنہ دیکھتے
- اس کے سیل گریہ میں گردوں کف سیلاب تھا
- اسدؔ ہے نزع میں چل بے وفا براے خدا
- ہوں وہ گلدام کہ سبزے میں چھپایا ہے مجھے
- موکشاں خانۂ زنجیر میں لایا ہے مجھے
- ہوں میں وہ داغ کہ پھولوں میں بسایا ہے مجھے
- ہوں میں وہ چاک کہ کانٹوں سے سلایا ہے مجھے
- ہوں میں وہ خاک کہ ماتم میں اڑایا ہے مجھے
- سوختگاں کی خاک میں ریزش نقش داغ ہے
- صبح ناپیدا ہے کلفت خانۂ ادبار میں
- شومی طالع سے ہوں ذوق معاصی میں اسیر
- بس کہ ہے صیاد راہ عشق میں محو کمیں
- کہکشاں موج شفق میں تیغ خوں آشام ہے
- کیا کمال عشق نقص آباد گیتی میں ملے
- ہوں میں بھی تماشائی نیرنگ تمنا
- ناخن کو جگر کاوی میں بے رنگ نکالوں
- کس پردے میں فریاد کی آہنگ نکالوں
- نگاہ ناز چشم یار میں زنار مینا ہے
- تصرف وحشیوں میں ہے تصور ہاے مجنوں کا
- سویدا میں نفس مانند خط نقطے میں پنہاں ہے
- کہ چشم آبلہ میں طول میل راہ مژگاں ہے
- اسدؔ ہوں میں پر افشان رمیدن
- تو یک جہاں قماش ہوس جمع کر کہ میں
- میں پائمال غمزۂ چشم کبود تھا
- لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبق ہنوز
- میں ورنہ ہر لباس میں ننگ وجود تھا
- خور شبنم آشنا نہ ہوا ورنہ میں اسدؔ
- نہ دیکھا کوئی ہم نے آشیاں بلبل کا گلشن میں
- ہے کوچہ ہاے نے میں غبار صدا بلند
- بے لالہ عارضاں مجھے گلگشت باغ میں
- یوں عاشقوں میں ہے سبب اعتبار داغ
- شام فراق یار میں جوش خیرہ سری سے ہم نے اسدؔ
- میں جو گردوں کو بہ میزان طبیعت تولا
- حضرت زلف میں جوں شانہ دل چاک چڑھا
- عشق میں ہم نے ہی ابرام سے پرہیز کیا
- ہم میں سرمایۂ ایجاد تمنا کب تھا
- اس شعلے نے گلگوں کو جو گلشن میں کیا گرم
- کہ ہے دل سوزاں نے مرے پہلو میں جا گرم
- میں رشک سے جوں آتش خاموش رہا گرم
- آغوش نقش پا میں کیجے فشار صحرا
- سر میں ہواے گلشن دل میں غبار صحرا
- یہ سر نوشت میں میری ہے اشک افشانی
- رکھے ہے کسوت طاؤس میں پر افشانی
- لب نگار میں آئینہ دیکھ آب حیات
- کہوں وہ مصرع برجستہ وصف قامت میں
- ہے طلسم دہر میں صد حشر پاداش عمل
- ہر نہال شمع میں اک غنچۂ گل گیر ہے
- گریے سے بند محبت میں ہوئی نام آوری
- وصل میں وہ سوز شمع مجلس تقریر ہے
- عزلت آباد صدف میں قیمت گوہر نہیں
- کہ میل سرمہ چشم داغ میں ہے آہ خاموشاں
- بھونچال میں گرا تھا یہ آئینہ طاق سے
- اک گھر میں مختصر سا بیاباں ضرور تھا
- ہر رنگ میں جلا اسدؔ فتنہ انتظار
- دل میں ایسے کے جا کرے کوئی
- بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
- اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے
- میں اور جاؤں در سے ترے بن صدا کیے
- صحبت میں غیر کی نہ پڑی ہو کہیں یہ خو
- زبس آتش نے فصل رنگ میں رنگ دگر پایا
- چراغ گل سے ڈھونڈھے ہے چمن میں شمع خار اپنا
- طلسم رنگ میں باندھا تھا عہد استوار اپنا
- مژگاں کی محبت میں جو انگشت نما ہوں
- خوں دل میں جو میرے نہیں باقی تو عجب کیا
- کس رتبہ میں باریکی و نرمی ہے کہ جوں گل
- آتی نہیں پنجہ میں بس اس کے نظر انگشت
- میں الفت مژگاں میں جو انگشت نما ہوں
- خاک میں عشاق کی غبار نہیں ہے
- آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیں
- ہے گریباں ننگ پیراہن جو دامن میں نہیں
- ضعف سے اے گریہ کچھ باقی مرے تن میں نہیں
- رنگ ہو کر اڑ گیا جو خوں کہ دامن میں نہیں
- ذرے اس کے گھر کی دیواروں کے روزن میں نہیں
- انجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں
- غیر سمجھا ہے کہ لذت زخم سوزن میں نہیں
- جلوۂ گل کے سوا گرد اپنے مدفن میں نہیں
- خوں بھی ذوق درد سے فارغ مرے تن میں نہیں
- موج مے کی آج رگ مینا کی گردن میں نہیں
- ہو فشار ضعف میں کیا ناتوانی کی نمود
- قد کے جھکنے کی بھی گنجائش مرے تن میں نہیں
- تھی وطن میں شان کیا غالبؔ کہ ہو غربت میں قدر
- بے تکلف ہوں وہ مشت خس کہ گلخن میں نہیں
- پنبہ نور صبح سے کم جس کے روزن میں نہیں
- عشق میں بیداد رشک غیر نے مارا مجھے
- غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اس کے ہجر میں
- تاکہ میں جانوں کہ ہے اس کی رسائی واں تلک
- جب کہ میں کرتا ہوں اپنا شکوۂ ضعف دماغ
- ہے ردیف شعر میں غالبؔ ز بس تکرار دوست
- نقش پا جو کان میں رکھتا ہے انگلی جادہ سے
- شیشے میں نبض پری پنہاں ہے موج بادہ سے
- دام گر سبزے میں پنہاں کیجیے طاؤس ہو
- اک گھر میں مختصر سا بیاباں ضرور تھا
- ہر رنگ میں جلا اسدؔ فتنہ انتظار
- حسرت نے لا رکھا تری بزم خیال میں
- پھونکا ہے کس نے گوش محبت میں اے خدا
- ہے چشم تر میں حسرت دیدار سے نہاں
- یا رب ہمیں تو خواب میں بھی مت دکھائیو
- دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگ
- میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہوتے تک
- شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک
- تا قیامت شب فرقت میں گزر جائے گی عمر
- ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
- اب میں ہوں اور ماتم یک شہر آرزو
- گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو کہ میں
- ہر برگ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا
- جس دشت میں وہ شوخ دو عالم شکار تھا
- آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صدا
- ہر کوئی درماندگی میں نالہ سے ناچار ہے
- وصل میں دل انتظار طرفہ رکھتا ہے مگر
- ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتے
- نفرت کا گماں گزرے ہے میں رشک سے گزرا
- خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے
- گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
- ہوں میں وہ سبزہ کہ زہراب اگاتا ہے مجھے
- آئنہ خانہ میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے
- زندگی میں تو وہ محفل سے اٹھا دیتے تھے
- میں ہوں اور حیرت جاوید مگر ذوق خیال
- ہے نزاکت بس کہ فصل گل میں معمار چمن
- قالب گل میں ڈھلی ہے خشت دیوار چمن
- بزم شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا
- آستیں میں دشنہ پنہاں ہاتھ میں نشتر کھلا
- ہے خیال حسن میں حسن عمل کا سا خیال
- جتنے عرصے میں مرا لپٹا ہوا بستر کھلا
- کیا رہوں غربت میں خوش جب ہو حوادث کا یہ حال
- اس کی امت میں ہوں میں میرے رہیں کیوں کام بند
- بساط عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
- مرے دام تمنا میں ہے اک صید زبوں وہ بھی
- مرے دریائے بے تابی میں ہے اک موج خوں وہ بھی
- مرے دل میں ہے غالبؔ شوق وصل و شکوۂ ہجراں
- خدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں وہ بھی
- مجھے معلوم ہے جو تو نے میرے حق میں سوچا ہے
- لے گئے خاک میں ہم داغ تمنائے نشاط
- جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا
- بسکہ دوڑے ہے رگ تاک میں خوں ہو ہو کر
- ہے تصور میں ز بس جلوہ نما موج شراب
- نشہ کے پردے میں ہے محو تماشائے دماغ
- سایۂ تاک میں ہوتی ہے ہوا موج شراب
- کہ مست ہے ترے کوچے میں ہر در و دیوار
- ہجوم گریہ کا سامان کب کیا میں نے
- وہ آ رہا مرے ہم سایے میں تو سائے سے
- نظر میں کھٹکے ہے بن تیرے گھر کی آبادی
- نہ کہہ کسی سے کہ غالبؔ نہیں زمانے میں
- سخن میں خامۂ غالبؔ کی آتش افشانی
- یقیں ہے ہم کو بھی لیکن اب اس میں دم کیا ہے
- پائی جگہ بھی دل میں تو ہو کر غبار حیف
- بنتا اسدؔ میں سرمۂ چشم رکاب یار
- بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے
- تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میں
- ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
- اجزائے نالہ دل میں مرے رزق ہم ہوئے
- نالے عدم میں چند ہمارے سپرد تھے
- چھوڑی اسدؔ نہ ہم نے گدائی میں دل لگی
- حوران خلد میں تری صورت مگر ملے
- اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعد قتل
- حذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے
- چمن میں کس کے یہ برہم ہوئی ہے بزم تماشا
- ابھرا ہوا نقاب میں ہے ان کے ایک تار
- مرتا ہوں میں کہ یہ نہ کسی کی نگاہ ہو
- آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا
- میں معتقد فتنۂ محشر نہ ہوا تھا
- میں سادہ دل آرزدگئ یار سے خوش ہوں
- کہوں کیا دل کی کیا حالت ہے ہجر یار میں غالبؔ
- پاؤں میں جب وہ حنا باندھتے ہیں
- وہ جو کاغذ میں دوا باندھتے ہیں
- قید میں بھی ہے اسیری آزاد
- آپ مسجد میں گدھا باندھتے ہیں
- چار سوئے دہر میں بازار غفلت گرم ہے
- ہاں درد بن کے دل میں مگر جا کرے کوئی
- تماشا کشور آئینہ میں آئینہ بند آیا
- تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
- لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبق ہنوز
- میں ورنہ ہر لباس میں ننگ وجود تھا
- یا میں غریب کشور گفت و شنود تھا
- تو یک جہاں قماش ہوس جمع کر کہ میں
- میں پائمال غمزۂ چشم کبود تھا
- خور شبنم آشنا نہ ہوا ورنہ میں اسدؔ
- جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے
- جاں کالبد صورت دیوار میں آوے
- تو اس قد دل کش سے جو گلزار میں آوے
- جب لخت جگر دیدۂ خوں بار میں آوے
- کچھ تجھ کو مزا بھی مرے آزار میں آوے
- طوطی کی طرح آئنہ گفتار میں آوے
- اک آبلہ پا وادیٔ پر خار میں آوے
- آغوش خم حلقۂ زنار میں آوے
- کیوں شاہد گل باغ سے بازار میں آوے
- جب اک نفس الجھا ہوا ہر تار میں آوے
- اے واے اگر معرض اظہار میں آوے
- جو لفظ کہ غالبؔ مرے اشعار میں آوے
- ہر ذرہ کے نقاب میں دل بیقرار ہے
- لکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کی
- دل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی
- حسرت میں رہے ایک بت عربدہ جو کی
- اسدؔ کو بوریے میں دھر کے پھونکا موج ہستی نے
- فقیری میں بھی باقی ہے شرارت نوجوانی کی
- کبھی کودکی میں جس نے نہ سنی مری کہانی
- یہی بار بار جی میں مرے آئے ہے کہ غالبؔ
- رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
- سویدا میں سیر عدم دیکھتے ہیں
- دل جوش گریہ میں ہے ڈوبی ہوئی اسامی
- میں بھی جلے ہوؤں میں ہوں داغ نا تمامی
- ہر چند عمر گزری آزردگی میں لیکن
- ہے یاس میں اسدؔ کو ساقی سے بھی فراغت
- ہنوز تیرے تصور میں ہے نشیب و فراز
- شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے
- خوں ہے دل خاک میں احوال بتاں پر یعنی
- غم سے مرتا ہوں کہ اتنا نہیں دنیا میں کوئی
- تھا میں گلدستۂ احباب کی بندش کی گیاہ
- جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے
- بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے
- جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے
- قطرہ دریا میں جو مل جاے تو دریا ہو جائے
- شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچھا ہے
- حضور شاہ میں اہل سخن کی آزمائش ہے
- چمن میں خوش نوایان چمن کی آزمائش ہے
- قد و گیسو میں قیس و کوہ کن کی آزمائش ہے
- وہ آیا بزم میں دیکھو نہ کہیو پھر کہ غافل تھے
- رہے دل ہی میں تیر اچھا جگر کے پار ہو بہتر
- نہیں کچھ سبحہ و زنار کے پھندے میں گیرائی
- وفاداری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہے
- رگ و پے میں جب اترے زہر غم تب دیکھیے کیا ہو
- نئے فتنوں میں اب چرخ کہن کی آزمائش ہے
- حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
- مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
- ہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر کو میں
- اے کاش جانتا نہ ترے رہگزر کو میں
- کیا جانتا نہیں ہوں تمہاری کمر کو میں
- یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں
- پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں
- کیا پوجتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں
- پھر بے خودی میں بھول گیا راہ کوئے یار
- جاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو میں
- سمجھا ہوں دل پذیر متاع ہنر کو میں
- دیکھوں علی بہادر عالی گہر کو میں
- سمجھ اس فصل میں کوتاہی نشو و نما غالبؔ
- خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے
- صبا جو غنچے کے پردے میں جا نکلتی ہے
- کبھی پری مری خلوت میں آ نکلتی ہے
- دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں
- خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں
- انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں
- لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں
- حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے
- آخر گناہ گار ہوں کافر نہیں ہوں میں
- لعل و زمرد و زر و گوہر نہیں ہوں میں
- رتبے میں مہر و ماہ سے کم تر نہیں ہوں میں
- کیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہوں میں
- وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں
- بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہم
- کام میں میرے ہے جو فتنہ کہ برپا نہ ہوا
- قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل
- تیرے دل میں گر نہ تھا آشوب غم کا حوصلہ
- شرم رسوائی سے جا چھپنا نقاب خاک میں
- خاک میں ناموس پیمان محبت مل گئی
- رہ گیا تھا دل میں جو کچھ ذوق خواری ہائے ہائے
- گر مصیبت تھی تو غربت میں اٹھا لیتا اسدؔ
- میری دلی ہی میں ہونی تھی یہ خواری ہائے ہائے
- میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا
- آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
- بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
- دونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی
- اڑتی پھرے ہے خاک مری کوئے یار میں
- ہے زر گل بھی نظر میں جوہر فولاد یاں
- دل میں ذوق وصل و یاد یار تک باقی نہیں
- آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
- میں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہا
- میں ہوں اور افسردگی کی آرزو غالبؔ کہ دل
- میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں
- میں نہیں جانتا دعا کیا ہے
- میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ
- آپ ہی ہو نظارہ سوز پردے میں منہ چھپائے کیوں
- قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
- راہ میں ہم ملیں کہاں بزم میں وہ بلائے کیوں
- جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
- دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا
- آج واں تیغ و کفن باندھے ہوے جاتا ہوں میں
- عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لاویں گے کیا
- ہے اب اس معمورہ میں قحط غم الفت اسدؔ
- ہم نے یہ مانا کہ دلی میں رہیں کھاویں گے کیا
- کیا شمع کے نہیں ہیں ہوا خواہ بزم میں
- دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھا
- تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
- تالیف نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں
- اس رہ گزر میں جلوۂ گل آگے گرد تھا
- زنداں میں بھی خیال بیاباں نورد تھا
- دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں
- مرہم کی جستجو میں پھرا ہوں جو دور دور
- ہے جوش گل بہار میں یاں تک کہ ہر طرف
- شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیں
- غالبؔ مرے کلام میں کیوں کر مزا نہ ہو
- کعبے میں کیوں دبائیں نہ ہم برہمن کے پاؤں
- دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا
- میں نے چاہا تھا کہ اندوہ وفا سے چھوٹوں
- ہوں ترے وعدہ نہ کرنے میں بھی راضی کہ کبھی
- سمجھ کے کرتے ہیں بازار میں وہ پرسش حال
- ہمارے ہاتھ میں کچھ ہے مگر ہے کیا کہئے
- یعنی ہمارے جیب میں اک تار بھی نہیں
- دیکھا تو ہم میں طاقت دیدار بھی نہیں
- صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں
- یاں دل میں ضعف سے ہوس یار بھی نہیں
- دل میں ہے یار کی صف مژگاں سے روکشی
- لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
- دیکھا اسدؔ کو خلوت و جلوت میں بارہا
- مرحبا میں کیا مبارک ہے گراں جانی مجھے
- لے گیا تھا گور میں ذوق تن آسانی مجھے
- میں اسے دیکھوں بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے
- ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہے
- مے وہ کیوں بہت پیتے بزم غیر میں یا رب
- دے وہ جس قدر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گے
- دوست کی شکایت میں ہم نے ہم زباں اپنا
- ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے
- قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکن
- میں جو کہتا ہوں کہ ہم لیں گے قیامت میں تمہیں
- تو تغافل میں کسی رنگ سے معذور نہیں
- ہوں ظہوری کے مقابل میں خفائی غالبؔ
- نامراد جلوہ ہر عالم میں حسرت گل کرے
- زبان اہل زباں میں ہے مرگ خاموشی
- یہ بات بزم میں روشن ہوئی زبانی شمع
- میں اور ایک آفت کا ٹکڑا وہ دل وحشی کہ ہے
- میں نا مراد دل کی تسلی کو کیا کروں
- جو دانہ دام میں ہے سو اشک کباب ہے
- لوگوں میں کیوں نمود نہ ہو لالہ زار کی
- رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے
- پردے میں گل کے لاکھ جگر چاک ہو گئے
- کیا مزہ ہوتا اگر پتھر میں بھی ہوتا نمک
- ورنہ ہوتا ہے جہاں میں کس قدر پیدا نمک
- یاد ہیں غالبؔ تجھے وہ دن کہ وجد ذوق میں
- زخم سے گرتا تو میں پلکوں سے چنتا تھا نمک
- اس عمل میں عیش کی لذت نہیں ملتی اسدؔ
- تمیز زشتی و نیکی میں لاکھ باتیں ہیں
- بہ رنگ سایہ ہمیں بندگی میں ہے تسلیم
- اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے
- فقط اک شعر میں انداز رسا رکھتے تھے
- سادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے
- بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کف قاتل میں ہے
- میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
- ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے
- بس ہجوم ناامیدی خاک میں مل جائے گی
- یہ جو اک لذت ہماری سعیٔ بے حاصل میں ہے
- اٹھ نہیں سکتا ہمارا جو قدم منزل میں ہے
- فتنۂ شور قیامت کس کے آب و گل میں ہے
- رحم کر اپنی تمنا پر کہ کس مشکل میں ہے
- سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
- خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
- تھیں بنات النعش گردوں دن کو پردے میں نہاں
- شب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں
- قید میں یعقوب نے لی گو نہ یوسف کی خبر
- میں یہ سمجھوں گا کہ شمعیں دو فروزاں ہو گئیں
- ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقام
- میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کھل گیا
- بسکہ روکا میں نے اور سینے میں ابھریں پے بہ پے
- واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جواب
- جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیا
- لیا دانتوں میں جو تنکا ہوا ریشہ نیستاں کا
- مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
- اگا ہے گھر میں ہر سو سبزہ ویرانی تماشا کر
- خموشی میں نہاں خوں گشتہ لاکھوں آرزوئیں ہیں
- چراغ مردہ ہوں میں بے زباں گور غریباں کا
- بغل میں غیر کی آج آپ سوتے ہیں کہیں ورنہ
- سبب کیا خواب میں آ کر تبسم ہائے پنہاں کا
- نظر میں ہے ہماری جادۂ راہ فنا غالبؔ
- دیا یاروں نے بے ہوشی میں درماں کا فریب آخر
- ہوا سکتے سے میں آئینۂ دست طبیب آخر
- ملیں گے منزل الفت میں ہم اور عندلیب آخر
- جو تو دریاۓ مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
- بہ قدر رنگ یاں گردش میں ہے پیمانہ محفل کا
- مجھے راہ سخن میں خوف گم راہی نہیں غالب
- خلوت آبلۂ پا میں ہے جولاں میرا
- کس زباں میں ہے لقب خواب پریشاں میرا
- سرگشتگی میں عالم ہستی سے یاس ہے
- پی جس قدر ملے شب مہتاب میں شراب
- یاں ہجوم اشک میں تار نگہ نایاب تھا
- ہر صریر خامہ میں یک نالۂ ناقوس تھا
- کل اسدؔ کو ہم نے دیکھا گوشۂ غم خانہ میں
- تمثال میں تیری ہے وہ شوخی کہ بہ صد ذوق
- قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا
- دل میں پھر گریہ نے اک شور اٹھایا غالبؔ
- کارخانے سے جنوں کے بھی میں عریاں نکلا
- کچھ کھٹکتا تھا مرے سینے میں لیکن آخر
- لاکھ پردے میں چھپا پر وہی عریاں نکلا
- جو نہ دیکھا تھا سو آئینے میں پنہاں نکلا
- میں بھی معذور جنوں ہوں اسدؔ اے خانہ خراب
- پر ہوں میں شکوے سے یوں راگ سے جیسے باجا
- عشق کی راہ میں ہے چرخ مکوکب کی وہ چال
- شاہ کی مدح میں یوں نغمہ سرا ہوتا ہے
- ہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلال
- میں جو گستاخ ہوں آئین غزل خوانی میں
- رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
- آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
- اسدؔ پردے میں بھی آہنگ شوق یار قائم ہے
- ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے
- گوہر کو عقد گردن خوباں میں دیکھنا
- یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میں
- آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
- ہو کر شہید عشق میں پائے ہزار جسم
- دل و جگر میں پر افشاں جو ایک موجۂ خوں ہے
- ہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے
- ہے عدم میں غنچہ محو عبرت انجام گل
- ہر شکست قیمت دل میں صداۓ خندہ ہے
- مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میں
- گو میں رہا رہین ستم ہائے روزگار
- ہر چند میں ہوں طوطی شیریں سخن ولے
- دنیا میں کوئی عقدۂ مشکل نہیں رہا
- عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
- تجھ سے قسمت میں مری صورت قفل ابجد
- دل ہوا کشمکش چارۂ زحمت میں تمام
- مٹ گیا گھسنے میں اس عقدے کا وا ہو جانا
- روتے روتے غم فرقت میں فنا ہو جانا
- چشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جانا
- دیکھ برسات میں سبز آئنے کا ہو جانا
- ورنہ مر جانے میں کچھ بھید نہیں
- میرے ہونے میں ہے کیا رسوائی
- میں اور صد ہزار نواۓ جگر خراش
- مقتل کو کس نشاط سے جاتا ہوں میں کہ ہے
- لپٹنا پرنیاں میں شعلۂ آتش کا پنہاں ہے
- ولے مشکل ہے حکمت دل میں سوز غم چھپانے کی
- دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمنائیں اسدؔ
- فرط بے خوابی سے ہیں شب ہاۓ ہجر یار میں
- جانتے ہیں جوشش سودائے زلف یار میں
- شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے
- غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے
- نے تیر کماں میں ہے نہ صیاد کمیں میں
- گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے
- بوسہ کو پوچھتا ہوں میں منہ سے مجھے بتا کہ یوں
- بزم میں اس کے روبرو کیوں نہ خموش بیٹھیے
- اس کی تو خامشی میں بھی ہے یہی مدعا کہ یوں
- میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہی
- کب مجھے کوئے یار میں رہنے کی وضع یاد تھی
- گر ترے دل میں ہو خیال وصل میں شوق کا زوال
- موج محیط آب میں مارے ہے دست و پا کہ یوں
- غیر لیں محفل میں بوسے جام کے
- مے خانۂ جگر میں یہاں خاک بھی نہیں
- میں دور گرد قرب بساط نگاہ تھا
- میں ہوں سراب یک تپش آموختن ہنوز
- سوزن میں تھا نہفتہ گل پیرہن ہنوز
- ہر چند ہر ایک شئے میں تُو ہے
- جس دل میں کہ تابکے سما جائے
- خانۂ خاتم میں یاقوت نگیں اختر ہوا
- نشہ میں گم کردہ راہ آیا وہ مست فتنہ خو
- ریزہ ریزہ استخواں کا پوست میں نشتر ہوا
- دانۂ تسبیح سے میں مہرہ در ششدر ہوا
- اس چمن میں ریشہ داری جس نے سر کھینچا اسدؔ
- قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو
- کیا سینے میں جس نے خوں چکاں مژگان سوزن کو
- خدا شرمائے ہاتھوں کو کہ رکھتے ہیں کشاکش میں
- نہیں دیکھا شناور جوئے خوں میں تیرے توسن کو
- کیا بیتاب کاں میں جنبش جوہر نے آہن کو
- مرے بت خانے میں تو کعبہ میں گاڑو برہمن کو
- شہادت تھی مری قسمت میں جو دی تھی یہ خو مجھ کو
- قیامت ہے کہ سن لیلی كا دشت قیس میں آنا
- تعجب سے وہ بولا یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں
- نہ کر سرگرم اس کافر کو الفت آزمانے میں
- سرشک آشفتہ سر تھا قطرہ زن مژگاں سے جانے میں
- رہے یاں شوخیٔ رفتار سے پا آستانے میں
- گل اقبال خس ہے چشم بلبل آشیانے میں
- کہ طوطی قفل زنگ آلودہ ہے آئینہ خانے میں
- ترے کوچے میں ہے مشاطۂ واماندگی قاصد
- پر پرواز زلف ناز ہے ہدہد کے شانے میں
- نمد در آب ہے اے سادہ پرکار اس بہانے میں
- کہ یاں گم کر جبین سجدہ فرسا آستانے میں
- قسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور
- لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے
- یاں تلک میری گرفتاری سے وہ خوش ہے کہ میں
- زلف گر بن جاؤں تو شانے میں الجھا دے مجھے
- میں دل ہوں فریب وفا خوردگاں کا
- اسدؔ میں تبسم ہوں پژمردگاں کا
- میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خار بیاباں پر
- نہیں اقلیم الفت میں کوئی طومار ناز ایسا
- کہ فرقت میں تری آتش برستی تھی گلستاں پر
- شاخ گل جنبش میں ہے گہوارہ آسا ہر نفس
- قہرمان عشق میں حسرت سے لیتے ہیں خراج
- ہے سواد چشم قربانی میں یک عالم مقیم
- وہ بے دماغ منت اقبال ہوں کہ میں
- وو التماس لذت بے داد ہوں کہ میں
- ایک چکر ہے مرے پانو میں زنجیر نہیں
- شوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو کہ جہاں
- آئینہ دام کو پردے میں چھپاتا ہے عبث
- مت مردمک دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں
- ہیں جمع سویداۓ دل چشم میں آہیں
- پھر حلقۂ کاکل میں پڑیں دید کی راہیں
- جوں دود فراہم ہوئیں روزن میں نگاہیں
- مجھ کو دیار غیر میں مارا وطن سے دور
- وہ حلقہ ہاۓ زلف کمیں میں ہیں یا خدا
- میں اور دکھ تری مژہ ہائے دراز کا
- صرفہ ہے ضبط آہ میں میرا وگرنہ میں
- چاہے ہے پھر کسی کو مقابل میں آرزو
- پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں
- نگاہ ناز چشم یار میں زنار مینا ہے
- تصرف وحشیوں میں ہے تصور ہاۓ مجنوں کا
- کہ رگ سے سنگ میں تخم شرر کا ریشہ پیدا ہے
- نہاں ہے گوہر مقصود جیب خود شناسی میں
- مجھے شب ہائے تاریک فراق شعلہ رویاں میں
- نہ سووے آبلوں میں گر سرشک دیدۂ نم سے
- مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں
- سواے خون جگر سو جگر میں خاک نہیں
- وگرنہ تاب و تواں بال و پر میں خاک نہیں
- کہ غیر جلوۂ گل رہ گزر میں خاک نہیں
- اثر مرے نفس بے اثر میں خاک نہیں
- شراب خانہ کے دیوار و در میں خاک نہیں
- سواے حسرت تعمیر گھر میں خاک نہیں
- کھلا کہ فائدہ عرض ہنر میں خاک نہیں
- جز زخم تیغ ناز نہیں دل میں آرزو
- صحرا ہماری آنکھ میں یک مشت خاک ہے
- ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے
- ملتی ہے خوئے یار سے نار التہاب میں
- کافر ہوں گر نہ ملتی ہو راحت عذاب میں
- کب سے ہوں کیا بتاؤں جہان خراب میں
- شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں
- تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر
- آنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں
- میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
- مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دور جام
- ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
- کیوں بد گماں ہوں دوست سے دشمن کے باب میں
- میں مضطرب ہوں وصل میں خوف رقیب سے
- ڈالا ہے تم کو وہم نے کس پیچ و تاب میں
- میں اور حظ وصل خدا ساز بات ہے
- جاں نذر دینی بھول گیا اضطراب میں
- ہے اک شکن پڑی ہوئی طرف نقاب میں
- لاکھوں بناؤ ایک بگڑنا عتاب میں
- وہ نالہ دل میں خس کے برابر جگہ نہ پائے
- جس نالہ سے شگاف پڑے آفتاب میں
- وہ سحر مدعا طلبی میں نہ کام آئے
- جس سحر سے سفینہ رواں ہو سراب میں
- پیتا ہوں روز ابر و شب ماہتاب میں
- اک خونچکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیں
- لڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل کہ کیوں اٹھا
- گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر
- غالبؔ گر اس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیں
- میں بھی رُک رُک کے نہ مرتا ۔۔۔جو زباں کے بدلے
- دہن شیر میں جا بیٹھے لیکن اے دل
- میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں
- ضعف میں طعنہ اغیار کا شکوہ کیا ہے
- میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں
- میری قسمت میں غم گر اتنا تھا
- میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں
- گر میں نے کی تھی توبہ ساقی کو کیا ہوا تھا
- ہے ایک تیر جس میں دونوں چھدے پڑے ہیں
- درماندگی میں غالبؔ کچھ بن پڑے تو جانوں
- کم نہیں وہ بھی خرابی میں پہ وسعت معلوم
- دشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں
- مژدہ اے مرغ کہ گلزار میں صیاد نہیں
- کم نہیں جلوہ گری میں ترے کوچے سے بہشت
- مرے قدح میں ہے صہبائے آتش پنہاں
- دل گداختہ کے میکدے میں ساغر کھینچ
- بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا
- دام سبزہ میں ہے پرواز چمن تسخیر کا
- نعل آتش میں ہے تیغ یار سے نخچیر کا
- رہا بلا میں بھی میں مبتلائے آفت رشک
- فلک نہ دور رکھ اس سے مجھے کہ میں ہی نہیں
- کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے
- اٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لیے
- زمانہ عہد میں اس کے ہے محو آرایش
- میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر اے جذبۂ دل
- مری قسمت میں یارب کیا نہ تھی دیوار پتھر کی
- یہ جانا چاہتے ہیں آج دعوت میں سمندر کی
- ڈبوتا چشمۂ حیواں میں گر کشتی سکندر کی
- ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
- لگائے خانۂ آئینہ میں روئے نگار آتش
- کہ اس میں ریزۂ الماس جزو اعظم ہے
- بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
- وگرنہ بحر میں ہر قطرہ چشم پر نم ہے
- چمن میں کون ہے طرز آفرین شیوۂ عشق
- میں ہوں اپنی شکست کی آواز
- میں اور اندیشہ ہائے دور دراز
- نہیں دل میں مرے وہ قطرۂ خوں
- میں غریب اور تو غریب نواز
- ایک دن گر نہ ہوا بزم میں ساقی نہ سہی
- گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی
- کہ موج بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا
- میں گرد راہ ہوں بے مدعا ہے پیچ و خم میرا
- کوئی کہے کہ شب مہ میں کیا برائی ہے
- کبھی جو یاد بھی آتا ہوں میں تو کہتے ہیں
- کہ آج بزم میں کچھ فتنہ و فساد نہیں
- جہاں میں ہو غم شادی بہم ہمیں کیا کام
- نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے در خور مرے تن میں
- ہوا ہے تار اشک یاس رشتہ چشم سوزن میں
- کف سیلاب باقی ہے بہ رنگ پنبہ روزن میں
- نگین نام شاہد ہے مرے ہر قطرۂ خوں تن میں
- شب مہ ہو جو رکھ دوں پنبہ دیواروں کے روزن میں
- ہوا ہے خندۂ احباب بخیہ جیب و دامن میں
- پرافشاں جوہر آئینے میں مثل ذرہ روزن میں
- جو گل ہوں تو ہوں گلخن میں جو خس ہوں تو ہوں گلشن میں
- سیہ ہو کر سویدا ہو گیا ہر قطرۂ خوں تن میں
- خم دست نوازش ہو گیا ہے طوق گردن میں
- فزوں کی دوستوں نے حرص قاتل ذوق کشتن میں
- ہوئے ہیں بخیہ ہائے زخم جوہر تیغ دشمن میں
- سویدا داغ مرہم مردمک ہے چشم سوزن میں
- ہوا ہے جوہر آئینہ خیل مور خرمن میں
- لگایا خندۂ ناصح نے بخیہ جیب و دامن میں
- چھوڑا نہ مجھ میں ضعف نے رنگ اختلاط کا
- اس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو
- واں اس کو ہول دل ہے تو یاں میں ہوں شرم سار
- دل کو میں اور مجھے دل محو وفا رکھتا ہے
- نقش پا میں ہے تب گرمی رفتار ہنوز
- خلوت سنگ میں ہے نالہ طلبگار ہنوز
- چشم شبنم میں نہ ٹوٹا مژۂ خار ہنوز
- وہ آ کے خواب میں تسکین اضطراب تو دے
- کرے ہے قتل لگاوٹ میں تیرا رو دینا
- دل میں طاقت جگر میں حال کہاں
- واں جو جاویں گرہ میں مال کہاں
- فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوں
- میں کہاں اور یہ وبال کہاں
- وہ عناصر میں اعتدال کہاں
- بوسہ میں وہ مضائقہ نہ کرے
- چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا
- اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا
- سفر عشق میں کی ضعف نے راحت طلبی
- ہر قدم سائے کو میں اپنے شبستاں سمجھا
- ہم نے وحشت کدۂ بزم جہاں میں جوں شمع
- پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد
- ہے یہی بہتر کہ لوگوں میں نہ چھیڑے تو مجھے
- ہم زباں آیا نظر فکر سخن میں تو مجھے
- یاد مژگاں میں بہ نشتر زار سودائے خیال
- ہے ہوا میں شراب کی تاثیر
- گھر ترا خلد میں گر یاد آیا
- میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ
- وصل میں ہجر کا ڈر یاد آیا
- عین جنت میں سقر یاد آیا
- ہو رہا ہے جہان میں اندھیر
- پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے
- اپنی رسوائی میں کیا چلتی ہے سعی
- چشم خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے
- کارگاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے
- رنگ گل کے پردے میں آئینہ پر افشاں ہے
- کبھی نیکی بھی اس کے جی میں گر آ جائے ہے مجھ سے
- تکلف بر طرف نظارگی میں بھی سہی لیکن
- ہوئے ہیں پاؤں ہی پہلے نبرد عشق میں زخمی
- اسدؔ ہے نزع میں چل بے وفا برائے خدا
- نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو
- قفس میں مجھ سے روداد چمن کہتے نہ ڈر ہمدم
- یہ کہہ سکتے ہو ہم دل میں نہیں ہیں پر یہ بتلاؤ
- کہ جب دل میں تمہیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو
- کہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی
- کعبہ میں جا رہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں
- طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ
- دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو
- کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں
- یہ سوء ظن ہے ساقی کوثر کے باب میں
- گستاخی فرشتہ ہماری جناب میں
- گر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں
- رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے
- نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
- جتنا کہ وہم غیر سے ہوں پیچ و تاب میں
- حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں
- یاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں
- ہیں کتنے بے حجاب کہ ہیں یوں حجاب میں
- پیش نظر ہے آئنہ دایم نقاب میں
- ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں
- مشغول حق ہوں بندگی بو تراب میں
- مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
- اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے
- آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں
- ہوں کشمکش نزع میں ہاں جذب محبت
- آنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں گو آئے
- ہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس بھیس میں جو آئے
- کی ہم نفسوں نے اثر گریہ میں تقریر
- حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا
- فکر نالہ میں گویا حلقہ ہوں ز سر تا پا
- شب نظارہ پرور تھا خواب میں خیال اس کا
- وہ نیشتر سہی پر دل میں جب اتر جاوے
- دل میں آ جاے ہے ہوتی ہے جو فرصت غش سے
- اک شرر دل میں ہے اس سے کوئی گھبرائے گا کیا
- جس میں کہ ایک بیضۂ مور آسمان ہے
- پرتو سے آفتاب کے ذرے میں جان ہے
- کی اس نے گرم سینۂ اہل ہوس میں جا
- بس چپ رہو ہمارے بھی منہ میں زبان ہے
- بیٹھا ہے جو کہ سایۂ دیوار یار میں
- غالبؔ ہم اس میں خوش ہیں کہ نامہربان ہے
- مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر
- ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
- کیا بد گماں ہے مجھ سے کہ آئینے میں مرے
- میں دور گرد عرض رسوم نیاز ہوں
- کس پردہ میں ہے آئنہ پرداز اے خدا
- ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔ
- زہرہ گر ایسا ہی شام ہجر میں ہوتا ہے آب
- لے تو لوں سوتے میں اس کے پاؤں کا بوسہ مگر
- سب کے دل میں ہے جگہ تیری جو تو راضی ہوا
- شعلہ خس میں جیسے خوں رگ میں نہاں ہو جائے گا
- باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر
- واے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہو
- گر شہادت آرزو ہے نشے میں گستاخ ہو
- تب اماں ہجر میں دی برد لیالی نے مجھے
- ہوس گل کے تصور میں بھی کھٹکا نہ رہا
- زندگی میں بھی رہا ذوق فنا کا مارا
- گلشن میں بندوبست بہ رنگ دگر ہے آج
- پیراہن خسک میں غبار شرر ہے آج
- گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا
- گہر میں محو ہوا اضطراب دریا کا
- غم فراق میں تکلیف سیر باغ نہ دو
- مری نگاہ میں ہے جمع و خرچ دریا کا
- جفا میں اس کی ہے انداز کار فرما کا
- مرا شمول ہر اک دل کے پیچ و تاب میں ہے
- میں مدعا ہوں تپش نامۂ تمنا کا
- عدم کو لے گئے دل میں غبار صحرا کا
- ہمارے ذہن میں اس فکر کا ہے نام وصال
- جو تم سے شہر میں ہوں ایک دو تو کیونکر ہو
- وہ نیش ہو رگ جاں میں فرو تو کیونکر ہو
- فراق یار میں تسکین ہو تو کیونکر ہو
- جانوں کسی کے دل کی میں کیونکر کہے بغیر
- کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں
- جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہم
- چھوڑوں گا میں نہ اس بت کافر کا پوجنا
- مقصد ہے ناز و غمزہ ولے گفتگو میں کام
- بہرا ہوں میں تو چاہیئے دونا ہو التفات
- غالبؔ نہ کر حضور میں تو بار بار عرض
- گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا
- کہ تار دامن و تار نظر میں فرق مشکل ہے
- وہ گل جس گلستاں میں جلوہ فرمائی کرے غالبؔ
- بہا ہے یاں تک اشکوں میں غبار کلفت خاطر
- کہ چشم تر میں ہر اک پارۂ دل پائے در گل ہے
- نکلتی ہے تپش میں بسملوں کی برق کی شوخی
- کہ اس بازار میں ساغر متاع دست گرداں ہے
- غم آغوش بلا میں پرورش دیتا ہے عاشق کو
- نہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا
- رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
- وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے
- وحشت آتش دل سے شب تنہائی میں
- شوق دیدار میں گر تو مجھے گردن مارے
- سایہ خورشید قیامت میں ہے پنہاں مجھ سے
- ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی
- پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے
- محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
- اسدؔ ہے نزع میں چل بے وفا برائے خدا
- اس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن
- دل میں چھری چبھو مژہ گر خونچکاں نہیں
- نقصاں نہیں جنوں میں بلا سے ہو گھر خراب
- کہتے ہو کیا لکھا ہے تری سر نوشت میں
- گل غنچگی میں غرقۂ دریائے رنگ ہے
- عزلت آباد صدف میں قیمت گوہر نہیں
- محابا کیا ہے میں ضامن ادھر دیکھ
- اس میں کچھ شائبۂ خوبی تقدیر بھی تھا
- کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا
- قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد
- بات کرتے کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا
- گر بگڑ بیٹھے تو میں لائق تعزیر بھی تھا
- پیشہ میں عیب نہیں رکھیے نہ فرہاد کو نام
- ہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا
- آخر اس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا
- کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
- ہوں میں بھی تماشائی نیرنگ تمنا
- ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے
- کرتا ہے بسکہ باغ میں تو بے حجابیاں
- از خود گزشتگی میں خموشی پہ حرف ہے
- یاں آب و دانہ موسم گل میں حرام ہے
- میں نے جنوں سے کی جو اسدؔ التماس رنگ
- خون جگر میں ایک ہی غوطہ دیا مجھے
- ہے بزم بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے
- ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور
- تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم جب اٹھیں گے
- ہر چند سبک دست ہوئے بت شکنی میں
- ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہے سنگ گراں اور
- ہے خون جگر جوش میں دل کھول کے روتا
- ہر روز دکھاتا ہوں میں اک داغ نہاں اور
- ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
- ہے وصل ہجر عالم تمکین و ضبط میں
- جو تھا سو موج رنگ کے دھوکے میں مر گیا
- خوں ہے مری نگاہ میں رنگ ادائے گل
- ہے شاخ گل میں پنجۂ خوباں بجائے گل
- یاد ہے شادی میں بھی ہنگامۂ یا رب مجھے
- صبح نا پیدا ہے کلفت خانۂ ادبار میں
- شومیٔ طالع سے ہوں ذوق معاصی میں اسیر
- بے خون دل ہے چشم میں موج نگہ غبار
- کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے
- یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں
- وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
- ماتم میں شہ دیں کے ہیں سودا نہیں ہم کو
- گھر پھونکنے میں اپنے محابا نہیں ہم کو
- کیا خیمۂ شبیر سے رتبے میں سوا ہے
- اب صاعقہ و مہر میں کچھ فرق نہیں ہے
- تجھ سے دنیا میں بچھا مائدہ بذل خلیل
- تاترے وقت میں ہو عیش و طرب کی توفیر
- تاترے عہد میں ہو رنج و الم کی تقلیل
- پیچھے ڈالی ہے سر رشتۂ اوقات میں گانٹھ
- پہلے ٹھونکی ہے بن ناخن تدبیر میں کیل
- قبلۂ کون و مکاں خستہ نوازی میں یہ دیر
- کعبۂ امن و اماں عقدہ کشائی میں یہ ڈھیل
- تھا میں اک بے نواے گوشہ نشیں
- تھا میں اک درد مند سینہ فگار
- ہوں خود اپنی نظر میں اتنا خوار
- کہ گر اپنے کو میں کہوں خاکی
- شاد ہوں لیکن اپنے جی میں کہ ہوں
- کچھ تو جاڑے میں چاہیے آخر
- بھاڑ میں جائیں ایسے لیل و نہار
- اور چھ ماہی ہو سال میں دوبار
- میری تنخواہ میں تہائی کا
- آج مجھ سا نہیں زمانے میں
- گھر سے بازار میں نکلتے ہوئے
- میں نے مانا کہ مل گئے پھر کیا
- دیکھنے میں ہیں گرچہ دو پر ہیں یہ دونوں یار ایک
- وضع میں گو ہوئی دو سر تیغ ہے ذوالفقار ایک
- ایک وفا و مہر میں تازگی بساط دہر
- لطف و کرم کے باب میں زینت روزگار ایک
- مملکت کمال میں ایک امیر نامور
- عرصۂ قیل و قال میں خسرو نامدار ایک
- گلشن اتفاق میں ایک بہار بے خزاں
- میکدۂ وفاق میں بادۂ بے خمار ایک
- رکھ دیں چمن میں بھر کے مئے مشکبو کی ناند
- بٹتے ہیں سونے روپے کے چھلے حضور میں
- وضع میں اس کو اگر سمجھیے قاف تریاق
- رنگ میں سبزۂ نوخیز مسیحا کہیے
- صومعے میں اسے ٹھہرائیے گر مہر نماز
- میکدے میں اسے خشت خم صہبا کہیے
- ہند میں اہل تسنن کی ہیں دو سلطنتیں
- رامپور اہل نظر کی ہے نظر میں وہ شہر
- جس طرح باغ میں ساون کی گھٹائیں برسیں
- صبح دم باغ میں آ جائے جسے ہو نہ یقیں
- جس میں وفا و مہر و محبت کا ہے وفور
- پھیلا ہے سب جہان میں یہ میوہ دور دور
- ہوا بزم طرب میں رقص ناہید
- فکر تاریخ سال میں مجھ کو
- اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہاے ہاے
- ہوئی ہے ایسے ہی فرخندہ سال میں غالبؔ
- سر آغاز موسم میں اندھے ہیں ہم
- میں کون اور ریختہ ہاں اس سے مدعا
- مقطع میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات
- صادق ہوں اپنے قول میں غالبؔ خدا گواہ
- نہیں اس کا جواب عالم میں
- نہیں ایسی کتاب عالم میں
- اس کے فقروں میں کون آتا ہے
- اپنے اپنے زمانے میں غالب
- میں جو ہوں در پے حصول شرف
- کہ نہ ارسال زر میں ہو تاخیر
- اور میں وہ ہوں کہ گر جی میں کبھی غور کروں
- ہاتھ میں تیرے رہے تو سن دولت کی عناں
- تمام دہر میں اس کے مطب کا چرچا ہے
- کہ بحث علم میں اطفال ابجدی اس کے
- کہ جس میں حکمت و طب ہی کے مسئلے ہیں تمام
- کل اس کتاب کے سال تمام میں جو مجھے
- کمال فکر میں دیکھا خرد نے بے آرام
- کہا یہ جلد کہ تو اس میں سوچتا کیا ہے
- جہاں میں جو کوئی فتح و ظفر کا طالب ہے
- رشک سے لڑتی ہیں آپس میں الجھ کر لڑیاں
- ہے تو کشتی میں ولے بحر رواں ہے سہرا
- ورنہ کیوں لائے ہیں کشتی میں لگا کر سہرا
- جی میں اترائیں نہ موتی کہ ہمیں ہیں اک چیز
- جب کہ اپنے میں سماویں نہ خوشی کے مارے
- یہی بار بار جی میں مرے آئے ہے کہ غالبؔ
- نزع مخمور ہوں اس دید کی دھن میں کہ مجھے
- رم آہو کو ہے ہر ذرے کی چشمک میں کمیں
- کہ ہوا خوں نگہ شوق میں نقش تمکیں
- گرد جوہر میں ہے آئینۂ دل پردہ نشیں
- درد ہوتا ہے مرے دل میں جو توڑوں بالیں
- پر پروانہ مری بزم میں ہے خنجر کیں
- اے نگہ تجھ کو کہے کس نقطے میں مشق تسکیں
- ختم کر ایک اشارت میں عبارات نیاز
- جوں مہ نو ہے نہاں گوشہ ابرو میں جبیں
- برش تیغ کا اس کی ہے جہاں میں چرچا
- جنت نقش قدم سے ہوں میں اس کی گلچیں
- برگ گل کا ہو جو طوفان ہوا میں عالم
- اس کے جولاں میں نظر آے ہے یوں دامن زیں
- تجھ میں اور غیر میں نسبت ہے و لیکن بہ تضاد
- شوخی عرض مطالب میں ہے گستاخ طلب
- طبع کو الفت دلدل میں یہ سرگرمی شوق
- ڈھونڈے نہ ملے موجۂ دریا میں روانی
- باقی نہ رہے آتش سوزاں میں حرارت
- ہے گرچہ مجھے نکتہ سرائی میں توغل
- ہے گرچہ مجھے سحر طرازی میں مہارت
- کیوں کر نہ کروں مدح کو میں ختم دعا پر
- قاصر ہے ستایش میں تری میری عبارت
- گنی ہیں سال کے رشتے میں بیس بار گرہ
- ابھی حساب میں باقی ہیں سو ہزار گرہ
- یہ کہکشاں ہے کہ ہیں اس میں بے شمار گرہ
- کہ ہر گرہ کی گرہ میں ہیں تین چار گرہ
- ہوا میں بوند کو ابر تگرگ بار گرہ
- لگے گی اس میں ثوابت کی استوار گرہ
- کشادہ رخ نہ پھرے کیوں کہ اس زمانے میں
- پڑی ہے غم کی مرے دل میں پیچ دار گرہ
- دعا یہ ہے کہ مخالف کے دل میں از رہ بغض
- عذر میں تین دن نہ آنے کے
- ایک میں کیا کہ سب نے جان لیا
- جانتا ہوں کہ آج دنیا میں
- میں نے مانا کہ تو ہے حلقہ بگوش
- ماہ بن ماہتاب بن میں کون
- دیکھنا میرے ہاتھ میں لبریز
- مے ہی پھر کیوں نہ میں پیے جاؤں
- کعبے میں جا بجائیں گے ناقوس
- اب تو باندھا ہے دیر میں احرام
- بوسہ دینے میں ان کو ہے انکار
- دل کے لینے میں جن کو تھا ابرام
- کہہ چکا میں تو سب کچھ اب تو کہہ
- بزم میں میزبان قیصر و جم
- رزم میں اوستاد رستم و سام
- جاں نثاروں میں تیرے قیصر روم
- جرعہ خواروں میں تیرے مرشد جام
- زور بازو میں مانتے ہیں تجھے
- فن صورت گری میں تیرا گزر
- جب ازل میں رقم پذیر ہوئے
- اور ان اوراق میں بہ کلک قضا
- جس بزم میں کہ ہو انھیں آہنگ میکشی
- چاہا تھا میں نے تم کو مہ چاردہ کہوں
- دو رات میں تمام ہے ہنگامہ ماہ کا
- اخبار لودھیانہ میں میری نظر پڑی
- وہ فرد جس میں نام ہے میرا غلط لکھا
- ستر برس کی عمر میں یہ داغ جانگداز
- اس بزم پر فروغ میں اس تیرہ بخت کو
- لمبر ملا نشیب میں از روے اہتمام
- دربار میں جو مجھ پہ چلی چشمک عوام
- تھا بارگاہ خاص میں خلقت کا ازدحام
- اس کشمکش میں آپ کا مداح درد مند
- سلطان بر و بحر کے در کا ہوں میں غلام
- وکٹوریا کا دہر میں جو مدح خوان ہو
- کہ دشت و کوہ کے اطراف میں بہر سر راہ
- نہ بادشاہ ولے مرتبے میں ہمسر شاہ
- خدا سے ہے یہ توقع کہ عہد طفلی میں
- پڑے نہ قطع خصومت میں احتیاج گواہ
- یہ چاہتا ہے کہ دنیا میں عز و جاہ کے ساتھ
- سو اس اکیس دن میں ہولی کی
- پھر ہوئی ہے اسی مہینے میں
- بزم گہ میں امیر شاہ نشاں
- رزم گہ میں حریف شیر کمیں
- دہر میں اس طرح کی بزم سرور
- اس اکھاڑے میں جو کہ ہے مظنوں
- ہے دعا بھی یہی کہ دنیا میں
- کہ اس آغوس میں ممکن ہے دو عالم کا فشار
- ہمت و نشو و نما میں یہ بلندی ہے کہ سرد
- غنچے کے میکدے میں مست تامل ہے بہار
- میکدے میں ہو اگر آرزوے گل چینی
- گم کرے گوشۂ میخانہ میں گر تو دستار
- اس زمیں میں نہ کرے سبز قلم کی رفتار
- کسوت تاک میں ہے نشۂ ایجاد ازل
- بیضۂ قمری کے آئینے میں پنہاں صیقل
- کہ ہوا صورت آئینہ میں جوہر بیدار
- مغز کہسار میں کرتا ہے فرو نشتر خار
- فرش اس دشت تمنا میں نہ ہوتا گر عدل
- خلوت آبلہ میں گم کرے گر تو رفتار
- گرد رہ اس کی بھریں شیشۂ ساعت میں اگر
- ہر نفس راہ میں ٹوٹے نفس لیل و نہار
- جیب خلوت کدۂ غنچہ میں جولان بہار
- جس کے حیرت کدۂ نقش قدم میں مانی
- ذوق میں جلوے کے تیرے بہ ہواے دیدار
- جس چمن میں ہو ترا جلوۂ محروم نواز
- جس ادب گاہ میں تو آئنہ شوخی ہو
- کھینچے خمیازے میں تیرے لب ساغر کا خمار
- سلک اختر میں مہ نو مژۂ گوہر بار
- مدح میں تیری نہاں زمزمۂ نعت نبی
- لیکن اس رشتۂ تحریر میں سر تا سر فکر
- خسرو انجم کے آیا صرف میں
- وہ کہ جس کی صورت تکوین میں
- توسن شہ میں ہے وہ خوبی کہ جب
- لاکھ عقدے دل میں تھے لیکن ہر ایک
- لاٹھی وہ لگے کہ جس میں آواز نہ ہو
- سنتے ہو تراویح میں کتنا قرآں
- سمجھیں تو ذرا دل میں کہ کیا کہتے ہیں
- گر جوہر امتیاز ہوتا ہم میں
- رسوا کرتے نہ آپ کو عالم میں
- یہ چور پڑا ہے خانۂ خاتم میں
- ہیں شہ میں صفات ذوالجلالی باہم
- یہ دی جو گئی ہے رشتۂ عمر میں گانٹھ
- ہر چند کہ دوستی میں کامل ہونا
- میں تجھ سے اور مجھ سے تو پوشیدہ
- رکھتے ہیں عشق میں یہ اثر ہم جگر جلے
- کیوں کر مانوں کہ اس میں تلوارنہیں
- یک تار نفس میں جوں طناب صباغ
- رویا میں ہزار آنکھ سے صبح تلک
- اس رشتے میں لاکھ تار ہوں بلکہ سوا
- یاران نبی میں تھی لڑائی کس میں
- الفت کی نہ تھی جلوہ نمائی کس میں
- بتلاؤ کوئی کہ تھی برائی کس میں
- ہر یک ہے کمال دیں میں یکتا باللہ
- ہیں گرچہ بہت خلیفہ ان میں ہیں چار
- ان چار میں ایک سے ہو جس کو انکار
- خدا کی راہ میں شاہی و خسروی کیسی
- عدو کے سمع رضا میں جگہ نہ پائے وہ بات
- زمام ناقہ کف اس کے میں ہے کہ اہل یقیں
- بھرا ہے غالبؔ دلخستہ کے کلام میں درد
- تاک کے جی میں کیوں رہے ارماں
- نہ گل اس میں نہ شاخ و برگ نہ بار
- جان شیریں میں یہ مٹھاس کہاں
- جان میں ہوتی گریہ شیرینی
- جان دینے میں اس کو یکتا جان
- کہ دواخانۂ ازل میں مگر
- میں کہا اے دل ہوائے دلبراں
- بس کہ تیرے حق میں کہتی ہے زباں
- پیچ میں ان کے نہ آنا زینہار
- یہ جو محفل میں بڑھاتے ہیں تجھے
- مفت میں ناحق کٹا دیں گے کہیں
- غوطے میں جا کر دیا کٹ کر جواب
- کعبے میں کیوں دبائیں نہ ہم برہمن کے پاؤں
- آج بیداری میں ہے خواب زلیخا مجھ کو
- چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں
- دودھ میں پکے تھے شلغم تناہا یاہو
- گر مصیبت تھی تو غربت میں اٹھا لیتا اسدؔ
- میری دلی ہی میں ہونی تھی یہ خواری ہائے ہائے
- ہو کر شہید عشق میں پائے ہزار جسم
- ہند میں اسدؔ نالاں نالہ در صفاہاں ہے
- کپڑوں میں جویں بخیے کے ٹانکوں سے سوا ہیں
- خدا سے میں بھی چاہوں از رہ مہر
- میں قائل خدا و نبیؐ و امام ہوں
- میں بھولا نہیں تجھ کو اے میری جاں
- میں نے جمنا کا کچھ نہ لکھا حال
- روز اس شہر میں اک حکم نیا ہوتا ہے
- کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا ہوتا ہے
- تا قیامت شب فرقت میں گزر جائے گی عمر
- طرز بیدل میں ریختہ کہنا
- ولی عہدی میں شاہی ہو مبارک
- بیٹھ رہنا گوشے میں ہے اعتکاف
- کبک کو ہندی میں کہتے ہیں چکور
- چاہ کو کہتے ہیں ہندی میں کنواں
- دود کو ہندی میں کہتے ہیں دھواں
- ہندی میں عقرب کا بچھو نام ہے
- فارسی میں بھوں کا ابرو نام ہے
- اسپ جب ہندی میں گھوڑا نام پائے
- فارسی میں دھپے کا سیلی ہے نام
- ہے قلم کا فارسی میں خامہ نام
- ہے غزل کا فارسی میں چامہ نام
- وہ چراوے باغ میں میوہ جسے
- شہر میں چھڑیوں کے میلے کی ہے بھیڑ
- من شوم خاموش میں چپ ہو رہوں
- باز خواہم رفت میں پھر جاؤں گا
- کوہ کو ہندی میں کہتے ہیں پہاڑ
- شعر کے پڑھنے میں کچھ حاصل نہیں
- ایسے پڑھنے کا تو میں قائل نہیں
- گھستے گھستے پانو میں زنجیر آدھی رہ گئی
- بات کرنے میں نکلتا ہے دم اس کے رو برو
- کھینچتا تھا رات کو میں خواب میں تصویر یار
- جاگ اٹھا میں کھینچنی تصویر آدھی رہ گئی
- تا مجھے پہنچائے کاہش بخت بد ہے گھات میں
- ہاں فراوانی اگر کچھ ہے تو ہے آفات میں
- جز غم و رنج و الم گھاٹا ہے ہر یک بات میں
- کم نصیبی اس کو کہتے ہیں کہ میرے ہات میں
- میں یہ کیا جانوں کہ وہ کس واسطے ہوں پھر گئے
- کیا کشش میں دل کی اب تاثیر آدھی رہ گئی
- نامہ بر جلدی میں تیری وہ جو تھی مطلب کی بات
- خط میں آدھی ہو سکی تحریر آدھی رہ گئی
- ہو تجلی برق کی صورت میں ہے یہ بھی غضب
- واں کے جانے میں مری توقیر آدھی رہ گئی