مینا
22 Misre
- حسرت کشوں کو ساغر و مینا نہ چاہیے
- تار و پود فرش محفل پنبۂ مینا کرے
- نشتر بہ مغز پنبۂ مینا فرو نہ ہو
- دست ہوس بہ گردن مینا نہ کھینچیے
- مینا شکستگاں کو کہسار خوں بہا ہے
- صہبا فتادہ خاطر و مینا شکستہ دل
- بزم ہے یک پنبۂ مینا گداز ربط سے
- چشم مست یار سے ہے گردن مینا پہ باج
- نگاہ ناز چشم یار میں زنار مینا ہے
- برگ گل ریزۂ مینا کی نشانی مانگے
- تار نگاہ سوزن مینا رشتۂ خط جام کیا
- اشک بعد ضبط غیر از پنبۂ مینا نہیں
- موج مے کی آج رگ مینا کی گردن میں نہیں
- صبح بہار پنبۂ مینا کہیں جسے
- رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
- کہ تار جادہ بھی کہسار کو زنار مینا ہو
- چشم مست یار سے ہے گردن مینا پہ باج
- نگاہ ناز چشم یار میں زنار مینا ہے
- برگ گل ریزۂ مینا کی نشانی مانگے
- ثابت ہوا ہے گردن مینا پہ خون خلق
- حسرت کشوں کو ساغر و مینا نہ چاہیے
- مئے تمثال پری نشۂ مینا آزاد