میرے
76 Misre
- میرے کام آئی دل مایوس ناکامی تری
- میرے لیے تو تیغ سیہ تاب ہو گئی
- عمر بھر ہوش نہ یک جا ہوے میرے کہ اسدؔ
- یا میرے زخم رشک کو رسوا نہ کیجیے
- ہمیشہ ہاتھ میں میرے مرا گریباں ہے
- خوں دل میں جو میرے نہیں باقی تو پھر اس کی
- اسدؔ ہنستے ہیں میرے گریہ ہاے زار پر مردم
- تھی میرے ہی جلانے کو اے آہ شعلہ ریز
- کیا سزا ہے میرے جرم آرزو تاویل کی
- وہ فسون وعدہ میرے واسطے افسانہ تھا
- غش آ گیا جو پس از قتل میرے قاتل کو
- واں تو میرے نالے کو بھی اعتبار نغمہ ہے
- میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
- خوں دل میں جو میرے نہیں باقی تو عجب کیا
- قتل کا میرے کیا ہے عہد تو بارے
- اس کی امت میں ہوں میں میرے رہیں کیوں کام بند
- مجھے معلوم ہے جو تو نے میرے حق میں سوچا ہے
- تھی میرے ہی جلانے کو اے آہ شعلہ ریز
- میرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے
- میرے ہاتھوں کو جدا باندھتے ہیں
- ورنہ کس کو میرے افسانے کی تاب استماع
- اب بے خبراں میرے لب زخم جگر پر
- حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد
- بارے آرام سے ہیں اہل جفا میرے بعد
- ہوئی معزولی انداز و ادا میرے بعد
- شعلۂ عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد
- ان کے ناخن ہوئے محتاج حنا میرے بعد
- نگہ ناز ہے سرمے سے خفا میرے بعد
- چاک ہوتا ہے گریباں سے جدا میرے بعد
- ہے مکرر لب ساقی پہ صلا میرے بعد
- کہ کرے تعزیت مہر و وفا میرے بعد
- کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد
- بے خطر جیتے ہیں ارباب ریا میرے بعد
- متفرق ہوئے میرے رفقا میرے بعد
- نام کا میرے ہے جو دکھ کہ کسی کو نہ ملا
- کام میں میرے ہے جو فتنہ کہ برپا نہ ہوا
- درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے
- عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لاویں گے کیا
- ڈر نالہ ہائے زار سے میرے خدا کو مان
- میرے غم خانے کی قسمت جب رقم ہونے لگی
- تم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے
- ننگ سجدہ سے میرے سنگ آستاں اپنا
- میرے دعوے پہ یہ حجت ہے کہ مشہور نہیں
- میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
- نہ آئی سطوت قاتل بھی مانع میرے نالوں کو
- مدار اب کھودنے پر گھاس کے ہے میرے درباں کا
- اب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے
- یا میرے زخم رشک کو رسوا نہ کیجیے
- ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے
- قسم جنازے پہ آنے کی میرے کھاتے ہیں غالبؔ
- آئینہ آہ میرے مقابل نہیں رہا
- میرے ہونے میں ہے کیا رسوائی
- قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو
- کبھی میرے گریباں کو کبھی جاناں کے دامن کو
- ہوا چرچا جو میرے پاؤں کی زنجیر بننے کا
- خوشی کیا کھیت پر میرے اگر سو بار ابر آوے
- رکھ لیجو میرے دعوی وارستگی کی شرم
- واں تو میرے نالے کو بھی اعتبار نغمہ ہے
- کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے
- کاش یوں بھی ہو کہ بن میرے ستائے نہ بنے
- کہ طاقت اڑ گئی اڑنے سے پہلے میرے شہ پر کی
- بیاں کس سے ہو ظلمت گستری میرے شبستاں کی
- کہا جو اس نے ذرا میرے پاؤں داب تو دے
- پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے
- غافل کو میرے شیشے پہ مے کا گمان ہے
- آتا ہے میرے قتل کو پر جوش رشک سے
- باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر
- یک بار لگا دو خم مے میرے لبوں سے
- کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
- میرے ابہام پہ ہوتی ہے تصدق توضیح
- میرے اجمال سے کرتی ہے تراوش تفصیل
- اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہاے ہاے
- دیکھنا میرے ہاتھ میں لبریز
- کم نصیبی اس کو کہتے ہیں کہ میرے ہات میں
- آکے آدھی دور میرے گھر سے وہ کیوں پھر گئے
- پاس میرے وہ جو آئے بھی تو بعد از نصف شب