میری
81 Misre
- حسرتیں کرتی ہے میری خاطر آزاد گل
- صورت دیبا تپش سے میری غرق خوں ہے آج
- مدعی میری صفاے دل سے ہوتا ہے خجل
- اسدؔ کی طرح میری بھی بغیر از صبح رخساراں
- گریباں چاک کا حق ہوگیا ہے میری گردن پر
- کہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
- جبیں پر میری مد خامۂ قدرت خط چیں ہے
- عمر میری ہو گئی صرف بہار حسن یار
- میری قسمت کا نہ ایک آدھ گریباں نکلا
- گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو کہ میں
- رہ گیا خط میری چھاتی پر کھلا
- ہیں میری مشت خاک سے اس کو کدورتیں
- آیا نہ میری خاک پہ وہ شہ سوار حیف
- بن گیا تقلید سے میری یہ سودائی عبث
- ظاہر ہیں میری شکل سے افسوس کے نشاں
- یہ سر نوشت میں میری ہے اشک افشانی
- غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اس کے ہجر میں
- گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو کہ میں
- خلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا
- نظر راحت پہ میری کر نہ وعدہ شب کے آنے کا
- کہ میری خواب بندی کے لیے ہوگا فسوں وہ بھی
- ہیں میری مشت خاک سے اس کو کدورتیں
- آیا نہ میری خاک پہ وہ شہ سوار حیف
- اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے
- تپش سے میری وقف کشمکش ہر تار بستر ہے
- تغافل بد گمانی بلکہ میری سخت جانی سے
- شرار سنگ نے تربت پہ میری گل فشانی کی
- گریباں چاک کا حق ہو گیا ہے میری گردن پر
- کہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
- کہ مرے عدو کو یارب ملے میری زندگانی
- تھی نگہ میری نہاں خانۂ دل کی نقاب
- ہے کیا جو کس کے باندھئے میری بلا ڈرے
- تو نے پھر کیوں کی تھی میری غم گساری ہائے ہائے
- دشمنی اپنی تھی میری دوست داری ہائے ہائے
- میری دلی ہی میں ہونی تھی یہ خواری ہائے ہائے
- میری آہ آتشیں سے بال عنقا جل گیا
- دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا
- کر گئی وابستۂ تن میری عریانی مجھے
- بیکسی میری شریک آئینہ تیرا آشنا
- میری آہیں بخیۂ چاک گریباں ہو گئیں
- اسدؔ کی طرح میری بھی بغیر از صبح رخساراں
- میری قسمت کا نہ ایک آدھ گریباں نکلا
- میری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہے
- ہمیشہ کھاتے تھے جو میری جان کی قسم آگے
- اے آہ میری خاطر وابستہ کے سوا
- میری وحشت تری شہرت ہی سہی
- دیکھ کے میری بے خودی چلنے لگی ہوا کہ یوں
- یاں تلک میری گرفتاری سے وہ خوش ہے کہ میں
- میری قسمت میں غم گر اتنا تھا
- یعنی یہ میری آہ کی تاثیر سے نہ ہو
- دشمنی نے میری کھویا غیر کو
- کب وہ سنتا ہے کہانی میری
- اور پھر وہ بھی زبانی میری
- دیکھ خونابہ فشانی میری
- مگر آشفتہ بیانی میری
- بھول جانا ہے نشانی میری
- رک گیا دیکھ روانی میری
- سخت ارزاں ہے گرانی میری
- صرصر شوق ہے بانی میری
- کھل گئی ہیچ مدانی میری
- ننگ پیری ہے جوانی میری
- وہ بد خو اور میری داستان عشق طولانی
- میری آواز گر نہیں آتی
- خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے
- وحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھا
- میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے
- فکر میری گہر اندوز اشارات کثیر
- کلک میری رقم آموز عبارات قلیل
- ہوئی میری وہ گرمی بازار
- میری تنخواہ جو مقرر ہے
- میری تنخواہ میں تہائی کا
- ہے زباں میری تیغ جوہر دار
- ہے قلم میری ابر گوہر بار
- میری تنخواہ کیجیے ماہ بماہ
- قاصر ہے ستایش میں تری میری عبارت
- میری سنو کہ آج تم اس سر زمین پر
- اخبار لودھیانہ میں میری نظر پڑی
- دیں آپ میری داد کہ ہوں فائز المرام
- میری حد وسع سے باہر کھلا
- میری دلی ہی میں ہونی تھی یہ خواری ہائے ہائے
- میں بھولا نہیں تجھ کو اے میری جاں