میرا
81 Misre
- دل کے ہاتھوں سے کہ ہے دشمن جانی میرا
- خامہ میرا تخت سلطان سخن کا پایہ ہے
- جنوں نے مجھ کو بنایا ہے مدعی میرا
- خامہ میرا شمع قبر کشتگاں کا دودہ ہے
- خلوت آبلۂ پا میں ہے جولاں میرا
- خوں ہے دل تنگی وحشت سے بیاباں میرا
- ذوق سرشار سے بے پردہ ہے طوفاں میرا
- موج خمیازہ ہے ہر زخم نمایاں میرا
- خون آدینہ سے رنگیں ہے دبستاں میرا
- عرض خمیازۂ مجنوں ہے گریباں میرا
- لنگر وحشت مجنوں ہے بیاباں میرا
- تشنۂ خون دل و دیدہ ہے پیماں میرا
- کس زباں میں ہے لقب خواب پریشاں میرا
- مشکل عشق ہوں مطلب نہیں آساں میرا
- کہ رہے چشم خریدار پہ احساں میرا
- تیرے چہرے سے ہو ظاہر غم پنہاں میرا
- دے نے برباد کیا پیرہنستاں میرا
- اٹھا یاں سے نہ میرا آب و دانہ
- میرا نیاز و عجز ہے مفت بتاں اسدؔ
- تیرے کوچے کا ہے مائل دل مضطر میرا
- میرا سفر بہ طالع چشم حسود تھا
- وا کیا ہرگز نہ میرا عقدۂ تار نفس
- اس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا
- اس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا
- مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھے
- ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میرا
- میرا سلام کہیو اگر نامہ بر ملے
- تغافل دوست ہوں میرا دماغ عجز عالی ہے
- میرا سر دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا
- میرا سفر بہ طالع چشم حسود تھا
- اس سے میرا مہہ خورشید جمال اچھا ہے
- دود میرا سنبلستاں سے کرے ہے ہم سری
- نغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ میرا جائے ہے
- سایہ میرا مجھ سے مثل دود بھاگے ہے اسدؔ
- ذکر میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیں
- میرا زانو مونس اور آئینہ تیرا آشنا
- یار تیرا جام مے خمیازہ میرا آشنا
- ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے
- کہ رہے چشم خریدار پہ احساں میرا
- تیرے چہرے سے ہو ظاہر غم پنہاں میرا
- خلوت آبلۂ پا میں ہے جولاں میرا
- خوں ہے دل تنگی وحشت سے بیاباں میرا
- ذوق سرشار سے بے پردہ ہے طوفاں میرا
- موج خمیازہ ہے ہر زخم نمایاں میرا
- خون آدینہ سے رنگیں ہے دبستاں میرا
- عرض خمیازۂ مجنوں ہے گریباں میرا
- لنگر وحشت مجنوں ہے بیاباں میرا
- تشنۂ خون دل و دیدہ ہے پیماں میرا
- کس زباں میں ہے لقب خواب پریشاں میرا
- مشکل عشق ہوں مطلب نہیں آساں میرا
- دے نے برباد کیا پیرہنستاں میرا
- نالہ جاتا تھا پرے عرش سے میرا اور اب
- خامہ میرا کہ وہ ہے باربد بزم سخن
- میرا ذمہ دیکھ کر گر کوئی بتلا دے مجھے
- مثل گل زخم ہے میرا بھی سناں سے توام
- صرفہ ہے ضبط آہ میں میرا وگرنہ میں
- نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا
- حباب موجۂ رفتار ہے نقش قدم میرا
- کہ موج بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا
- زمیں کو سیلئ استاد ہے نقش قدم میرا
- پرافشاں ہے غبار آں سوئے صحرائے عدم میرا
- میں گرد راہ ہوں بے مدعا ہے پیچ و خم میرا
- دہان زخم پیدا کر اگر کھاتا ہے غم میرا
- برنگ موج مے خمیازۂ ساغر ہے رم میرا
- متقابل ہے مقابل میرا
- نہ لاوے تاب جو غم کی وہ میرا رازداں کیوں ہو
- گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو
- عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو
- واے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہو
- جسے نصیب ہو روز سیاہ میرا سا
- پُر ہے ساے کی طرح میرا شبستاں مجھ سے
- ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر
- میرا رقیب ہے نفس عطر سائے گل
- سیہ گلیم ہوں لازم ہے میرا نام نہ لے
- کہ جو شریک ہو میرا شریک غالبؔ ہے
- میرا اپنا جدا معاملہ ہے
- زہر غم کر چکا تھا میرا
- وہ فرد جس میں نام ہے میرا غلط لکھا
- آپ کی مدح اور میرا منھ
- مشکل ہے زبس کلام میرا اے دل
- ان کی تاریخ میرا تاریخا