مہر
62 Misre
- بہ مہر نامہ جو بوسہ گل پیام رہا
- یہ کس بے مہر کی تمثال کا ہے جلوہ سیمابی
- مسی آلودہ ہے مہر نوازش نامہ ظاہر ہے
- داغ مہر ضبط بے جا مستی سعی سپند
- عیش گرم اضطراب و اہل غفلت سرد مہر
- فارغ مجھے نہ جان کہ مانند صبح و مہر
- قرص کافوری ہے مہر از بہر سر ماخوردگاں
- شعاع مہر سے کرتا ہے چرخ زر دوزی
- شعاع مہر سے تہمت نگہ کہ چشم روزن پر
- مہر گردوں ہے چراغ رہ گزار باد یاں
- بہ مہر صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
- کل تلک تیرا بھی دل مہر و وفا کا باب تھا
- بہ رنگ شعلہ ہے مہر نماز از پا نشستن ہا
- مہر کانپا چرخ چکر کھا گیا
- داد خواہ تپش و مہر خموشی بر لب
- واں اسدؔ تار شعاع مہر خط جام ہے
- ہے شعاع مہر زنار سلیمانی مجھے
- داغ ہے مہر دہن جوں چشم قربانی مجھے
- جوں اعتماد نامہ و خط کا ہو مہر سے
- مہر بجاے نامہ لگائی بر لب پیک نامہ رساں
- از مہر تا بہ ذرہ دل و دل ہے آئنہ
- وگرنہ مہر سلیمان و جام جم کیا ہے
- شعاع مہر سے تہمت نگہ کی چشم روزن پر
- کہ کرے تعزیت مہر و وفا میرے بعد
- رتبے میں مہر و ماہ سے کم تر نہیں ہوں میں
- مہر گردوں ہے چراغ رہ گزار باد یاں
- جب وہ جمال دلفروز صورت مہر نیمروز
- عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا
- شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے
- اے شہنشاہ کواکب سپہ و مہر علم
- فارغ مجھے نہ جان کہ مانند صبح و مہر
- لرزتا ہے مرا دل زحمت مہر درخشاں پر
- کہ پشت چشم سے جس کی نہ ہووے مہر عنواں پر
- بہ مہر صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
- زکات حسن دے اے جلوۂ بینش کہ مہر آسا
- کہ ہوئے مہر و مہ تماشائی
- ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو
- خار رہ کو ترے ہم مہر گیا کہتے ہیں
- بے تکلف داغ مہ مہر دہاں ہو جائے گا
- کیسا فلک اور مہر جہاں تاب کہاں کا
- اب صاعقہ و مہر میں کچھ فرق نہیں ہے
- ایک وفا و مہر میں تازگی بساط دہر
- ہے جن کے آگے سیم و زر مہر و ماہ ماند
- مہر مکتوب عزیزان گرامی لکھیے
- صومعے میں اسے ٹھہرائیے گر مہر نماز
- جس میں وفا و مہر و محبت کا ہے وفور
- وہ بہار ریاض مہر و وفا
- رونق بزم مہ مہر تری ذات سے ہے
- تجھ کو شرف مہر جہاں تاب مبارک
- مہر تاباں کو ہو تو ہو اے ماہ
- ہیں مہ و مہر و زہرہ و بہرام
- مہر رخشاں کا نام خسرو روز
- شعاع مہر درخشاں ہو اس کا تار نگاہ
- سرور مہر فر ہوا جو سوار
- ہم عبادت کو ترا نقش قدم مہر نماز
- مہر عالم تاب کا منظر کھلا
- تاج زریں مہر تاباں سے سوا
- منصب مہر و مہ و محور کھلا
- خدا سے میں بھی چاہوں از رہ مہر
- آسماں کے نام ہیں اے رشک مہر
- مہر سورج چاند کو کہتے ہیں ماہ
- ہے محبت مہر لازم ہے نباہ