مہ
48 Misre
- مژہ پیچک میں مہ کی سوزن آسا چیدنی جانے
- چنے ہے کہکشاں خرمن سے مہ کے خوشہ پرویں کا
- مہ و خرشید باہم ساز یک خواب پریشاں ہیں
- عکس داغ مہ ہوا عارض پہ خال
- کہ تیغ یار ہلال مہ محرم ہے
- پیچک مہ صرف چاک پردۂ فانوس و بس
- بہ گرد سر مہ انداز نگاہ شرمگیں پایا
- کرمک شب تاب آسا مہ پر افشانی کرے
- تیرگی سے داغ کی مہ سیم مس اندودہ ہے
- بہ زلف مہ وشاں رہتی ہے شب بیدار ظاہر ہے
- خط جو رخ پر جانشین بالۂ مہ ہو گیا
- ہالہ دود شعلۂ جوالۂ مہ ہو گیا
- ہالۂ دیگر بہ گرد ہالۂ مہ ہو گیا
- پارۂ چاک کتاں پرکالہ مہ ہو گیا
- داغ مہ جوش چمن سے لالۂ مہ ہو گیا
- مہ نو سے ہے رہزن دار نعل واژگوں باندھا
- پھر مہ و خرشید کا دفتر کھلا
- بحکم عجز ابروے مہ نو حیرت ایما ہے
- شوخی بارش سے مہ فوارۂ سیماب تھا
- دامان شفق طرف نقاب مہ نو ہے
- مہ حریف نازش ہم چشمی ساغر نہیں
- مہ ز سر تا ناخن پا رزق یک شگبیر ہے
- چھوڑا مہ نخشب کی طرح دست قضا نے
- مہ اختر فشاں کی بہر استقبال آنکھوں سے
- حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے
- شوخیٔ بارش سے مہ فوارۂ سیماب تھا
- آستاں پر ترے مہ ناصیہ سا ہوتا ہے
- ہوا مہ کثرت سرمایہ اندوزی سے تنگ آخر
- بہ حکم عجز ابروئے مہ نو حیرت ایما ہے
- سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوری
- کہ تیغ یار ہلال مہ محرم ہے
- کوئی کہے کہ شب مہ میں کیا برائی ہے
- شب مہ ہو جو رکھ دوں پنبہ دیواروں کے روزن میں
- کہ ہوئے مہر و مہ تماشائی
- کرمک شب تاب آسا مہ پر افشانی کرے
- غافل ان مہ طلعتوں کے واسطے
- بے تکلف داغ مہ مہر دہاں ہو جائے گا
- مہ حریف نازش ہم چشمیٔ ساغر نہیں
- رونق بزم مہ مہر تری ذات سے ہے
- کیوں نہ دکھلاوے فروغ مہ و اختر سہرا
- جوں مہ نو ہے نہاں گوشہ ابرو میں جبیں
- ہاں مہ نو سنیں ہم اس کا نام
- ہیں مہ و مہر و زہرہ و بہرام
- چاہا تھا میں نے تم کو مہ چاردہ کہوں
- مہ و سال اشرف ہفتہ بعد نہیں
- سلک اختر میں مہ نو مژۂ گوہر بار
- صبح کو راز مہ و اختر کھلا
- منصب مہر و مہ و محور کھلا