مگر
73 Misre
- صحرا مگر بہ تنگی چشم حسود تھا
- مضمون وصل ہاتھ نہ آیا مگر اسے
- نہ ملے داد مگر روز جزا ہے تو سہی
- جفا شوخ و ہوس گستاخ مطلب ہے مگر عاشق
- مگر آتش ہمارا کوکب اقبال چمکاوے
- میں ہوں اور حیرت جاوید مگر ذوق خیال
- وصل میں دل انتظار طرفہ رکھتا ہے مگر
- مگر یک دست و دامان نگاہ واپسیں پایا
- مگر وہ شوخ ہے طوفاں طراز شوق خونریزی
- ہے مگر موقوف بر وقت دگر کار اسدؔ
- یک دست جہاں مجھ سے پھرا ہے مگر انگشت
- برگ حنا مگر مژۂ خوں فشاں نہیں
- مگر روز عروسی گم ہوا تھا شانہ لیلیٰ کا
- مگر وہ خانہ بر انداز گفتگو جانے
- وہی غفلت مگر احرام فسردن باندھے
- اے حسن مگر حسرت پیماں شکنی ہے
- تصویر کے پردے میں مگر رنگ نکالوں
- عکس تیرا ہی مگر تیرے مقابل آئے
- کوئی دنیا میں مگر باغ نہیں ہے واعظ
- مگر طوفان مے میں پیچش موج صبا گم ہو
- مگر ہو مانع دامن کشی ذوق خود آرائی
- خانۂ عاشق مگر ساز صداے آب تھا
- ہم کو جلدی ہے مگر تو نے قیامت ڈھیل کی
- اگرچہ تھا یہ ارادہ مگر خدا کا شکر
- خانۂ عاشق مگر ساز صدائے آب تھا
- محفل سے مگر شمع کو دل تنگ نکالوں
- پوچھا تھا گرچہ یار نے احوال دل مگر
- زلف تحریر پریشان تقاضا ہے مگر
- چشم پرواز و نفس خفتہ مگر ضعف امید
- ضد کی ہے اور بات مگر خو بری نہیں
- مگر ہو مانع دامن کشی ذوق خود آرائی
- یک دست جہاں مجھ سے پھرا ہے مگر انگشت
- وصل میں دل انتظار طرفہ رکھتا ہے مگر
- میں ہوں اور حیرت جاوید مگر ذوق خیال
- حریف راز محبت مگر در و دیوار
- حوران خلد میں تری صورت مگر ملے
- ہاں درد بن کے دل میں مگر جا کرے کوئی
- صحرا مگر بہ تنگی چشم حسود تھا
- پوچھا تھا گرچہ یار نے احوال دل مگر
- نہ رکھ آپ سے تعلق مگر ایک بد گمانی
- مگر ایک شہپر مور کرے ساز بادبانی
- مگر پھر تاب زلف پرشکن کی آزمائش ہے
- ہمارے ہاتھ میں کچھ ہے مگر ہے کیا کہئے
- بیداد عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسدؔ
- مضمون وصل ہاتھ نہ آیا مگر اسے
- ترا آنا نہ تھا ظالم مگر تمہید جانے کی
- دل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا مگر
- مگر غبار ہوے پر ہوا اڑا لے جاے
- زلف تحریر پریشان تقاضا ہے مگر
- چشم پرواز و نفس خفتہ مگر ضعف امید
- میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر اے جذبۂ دل
- دل گم گشتہ مگر یاد آیا
- مگر آشفتہ بیانی میری
- خدایا جذبۂ دل کی مگر تاثیر الٹی ہے
- شرم تم کو مگر نہیں آتی
- ہاں منہ سے مگر بادۂ دوشینہ کی بو آئے
- اچھے رہے آپ اس سے مگر مجھ کو ڈبو آئے
- لے تو لوں سوتے میں اس کے پاؤں کا بوسہ مگر
- مگر ستم زدہ ہوں ذوق خامہ فرسا کا
- مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے
- برگ حنا مگر مژۂ خوں فشاں نہیں
- آپ آتے تھے مگر کوئی عناں گیر بھی تھا
- ہے تیر مقرر مگر اس کی ہے کماں اور
- مگر اب ذوق بذلہ سنجی کو
- مگر ہاں نام کو اورنگ زیبی
- نہ رکھ آپ سے تعلق مگر ایک بدگمانی
- مگر ایک شہپر مور کرے ساز بادبانی
- شعلۂ شمع مگر شمع پہ باندھے آئیں
- غالبؔ اس کا مگر نہیں ہے غلام
- کاتب کی آستیں ہے مگر تیغ کا نیام
- مگر نبی و علی مرحبا کہیں اس کو
- کہ دواخانۂ ازل میں مگر
- جان کی پاؤں اماں باتیں یہ سب سچ ہیں مگر