مژگان
32 Misre
- بہ یک مژگان خوباں صد چمن خوابیدنی جانے
- در خیال آباد سوداے سر مژگان دوست
- صورت مژگان عاشق صرف عرض شانہ تھا
- عرض نشاط دید ہے مژگان انتظار
- مژگان باز ماندہ رگ خواب ہو گئی
- دست برہم سودہ ہے مژگان خوابیدہ اسدؔ
- اسدؔ ہے آج مژگان تماشا کی حنا بندی
- مژگان چشم دام ہوئے خار و خس تمام
- بروے قیس دست شرم ہے مژگان آہو سے
- خون جگر ودیعت مژگان یار تھا
- عشق نے وا کی ہے ہر یک خار سے مژگان عجز
- کہ ہے سر پنجۂ مژگان آہو پشت خار اپنا
- پر بالش ہے وقت دید مژگان تماشائی
- یاں رواں مژگان چشم تر سے خون ناب تھا
- جادۂ رہ سر بسر مژگان چشم دام ہے
- کہ مژگان کشودہ نیشتر ہے
- مژگان باز ماندہ سے دست دعا بلند
- صورت اشک بہ مژگان رگ تاک چڑھا
- مانند شبنم اشک ہیں مژگان خار کے
- جوہر سواد جلوۂ مژگان حور تھا
- کہ ہے سر پنجۂ مژگان آہو پشت خار اپنا
- جوہر سواد جلوۂ مژگان حور تھا
- مژگان کوہکن رگ خارا کہیں جسے
- خون جگر ودیعت مژگان یار تھا
- در خیال آباد سودائے سر مژگان دوست
- مانند شبنم اشک ہیں مژگان خار کے
- یاں رواں مژگان چشم تر سے خون ناب تھا
- کیا سینے میں جس نے خوں چکاں مژگان سوزن کو
- کس دل پہ ہے عزم صف مژگان خود آرا
- رکھوں کچھ اپنی بھی مژگان خوں فشاں کے لیے
- سونپے ہے فیض ہوا صورت مژگان یتیم
- یک طرف نازش مژگان و دگر سو غم خار