مٹ
12 Misre
- ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا
- دیکھ اس کو دل سے مٹ گئے بے اختیار داغ
- ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا
- فردا و دی کا تفرقہ یک بار مٹ گیا
- گھستے گھستے مٹ جاتا آپ نے عبث بدلا
- ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں
- رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
- دل سے ہوائے کشت وفا مٹ گئی کہ واں
- مٹ گیا گھسنے میں اس عقدے کا وا ہو جانا
- مٹ جائے گا سر گر ترا پتھر نہ گھسے گا
- ہنس کے بلوائیے مٹ جائے گا سب دل کا گلہ
- جہاں مٹ جائے سعیٔ دید خضر آباد آسائش