موج
107 Misre
- بروے آب جو ہر موج نقش مسطر ہو
- چاک موج سیل تا پیراہن دیوانہ تھا
- ہے کمند موج گل فتراک بے تابی اسدؔ
- ہے فروغ ماہ سے ہر موج اک تصویر چاک
- غبار کوچہ ہائے موج ہے خاشاک ساحل ہا
- ورنہ کیا موج نفس زنجیر رسوائی نہیں
- موج تبسم لب آلودۂ مسی
- جنبش موج صبا ہے شوخی رفتار باغ
- بے گانگی خوہا موج رم آہو ہا
- ہستی فریب نامۂ موج سراب ہے
- جب کہ نقش مدعا ہووے نہ جز موج سراب
- شرار آہ سے موج صبا دامان گلچیں ہے
- اس موج مے کو غافل پیمانہ نقش پا ہے
- طوفان نالۂ دل تا موج بوریا ہے
- کہ در بحر کماں بالیدہ موج تیر ہے پیدا
- عرق ریز تپش ہیں موج کے مانند زنجیریں
- موج مے مثل خط جام ہے برجاماندہ
- موج مے مثل خط جام ہے ہر جا ماندہ
- موج خمیازہ ہے ہر زخم نمایاں میرا
- موج غبار سے پر یک دشت وا کروں
- مانند موج آب زبان بریدہ ہوں
- موج سراب دشت وفا کا نہ پوچھ حال
- سایۂ گل داغ و جوش نکہت گل موج دود
- درس نیرنگ ہے کس موج نگہ کا یارب
- مگر طوفان مے میں پیچش موج صبا گم ہو
- کہ موج گریہ میں صد خندۂ دنداں نما گم ہو
- موج سے پیدا ہوئے پیراہن دریا میں خار
- روانی موج مے کی گر خط جام آشنا ہووے
- ہے جو آبی پیرہن ہر موج رود نیل کی
- موج بہار یکسر زنجیر نقش پا ہے
- تا کوچہ دادن موج خمیازہ آشنا ہے
- موج بہار رکھتی ہے اک بوریا گرو
- بال پری بہ شوخی موج صبا گرو
- پاے صد موج بہ طوفاں کدۂ دل باندھا
- کوچۂ موج کو خمیازۂ ساحل باندھا
- فرش سے تا عرش واں طوفان تھا موج رنگ کا
- موج سے پیدا ہوئے پیراہن دریا میں خار
- کہکشاں موج شفق میں تیغ خوں آشام ہے
- تا آبلہ محمل کش موج گہر آوے
- موج گرداب حیا ہے چین پیشانی مجھے
- ساقی نے از بہر گریباں چاکی موج بادۂ ناب
- موج سراب صحرا عرض خمار صحرا
- کہ موج آب ہے ہر ایک چین پیشانی
- رگ بالیدۂ گردن ہے موج بادہ درمینا
- موج مے کی آج رگ مینا کی گردن میں نہیں
- شیشے میں نبض پری پنہاں ہے موج بادہ سے
- دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگ
- موج سراب دشت وفا کا نہ پوچھ حال
- مرے دریائے بے تابی میں ہے اک موج خوں وہ بھی
- شہپر رنگ سے ہے بال کشا موج شراب
- ہے تصور میں ز بس جلوہ نما موج شراب
- بسکہ رکھتی ہے سر نشو و نما موج شراب
- موجۂ سبزۂ نو خیز سے تا موج شراب
- رہبر قطرہ بہ دریا ہے خوشا موج شراب
- پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب
- پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب
- دے بط مے کو دل و دست شنا موج شراب
- سایۂ تاک میں ہوتی ہے ہوا موج شراب
- سر سے گزرے پہ بھی ہے بال ہما موج شراب
- موج ہستی کو کرے فیض ہوا موج شراب
- چار موج اٹھتی ہے طوفان طرب سے ہر سو
- موج گل موج شفق موج صبا موج شراب
- دے ہے تسکیں بہ دم آب بقا موج شراب
- کوچۂ موج کو خمیازۂ ساحل باندھا
- ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
- اسدؔ کو بوریے میں دھر کے پھونکا موج ہستی نے
- موج خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
- ہجوم فکر سے دل مثل موج لرزے ہے
- موج خرام یار بھی کیا گل کتر گئی
- بال تدرو جلوۂ موج شراب ہے
- موج خمیازہ ہے ہر زخم نمایاں میرا
- فرش سے تا عرش واں طوفاں تھا موج رنگ کا
- روانی ہائے موج خون بسمل سے ٹپکتا ہے
- ہستی فریب نامۂ موج سراب ہے
- ہر موج گرد راہ مرے سر کو دوش ہے
- ہے فروغ ماہ سے ہر موج اک تصویر چاک
- موج محیط آب میں مارے ہے دست و پا کہ یوں
- موج غبار سے پر یک دشت وا کروں
- موج شراب یک مژۂ خواب ناک ہے
- لطمۂ موج کم از سیلئ استاد نہیں
- نم دامان عصیاں ہے طراوت موج کوثر کی
- کہ موج بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا
- برنگ موج مے خمیازۂ ساغر ہے رم میرا
- سرمہ گویا موج دود شعلۂ آواز ہے
- یاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں
- لرزے ہے موج مے تری رفتار دیکھ کر
- نفس موج محیط بے خودی ہے
- موج غبار سرمہ ہوئی ہے صدا مجھے
- زنار واگسستہ ہے موج صبا مجھے
- جو تھا سو موج رنگ کے دھوکے میں مر گیا
- بے خون دل ہے چشم میں موج نگہ غبار
- موج خمیازۂ یک نشہ چہ اسلام و چہ کفر
- یہ مئے تند نہیں موج خرام اظہار
- موج مے پر ہے برات نگرانی امید
- گلشن و میکدہ سیلابی یک موج خیال
- موج گل ڈھونڈھ بہ خلوت کدۂ غنچۂ باغ
- سبز ہے موج تبسم بہ ہواے گفتار
- باندھے ہے پیر فلک موج شفق سے زنار
- عکس موج گل و سر شاری انداز حباب
- عرض خمیازہ ایجاد ہے ہر موج غبار
- ابر نیساں سے ملے موج گہر کا تاواں
- موج طوفان غضب چشمہ نہ چرخ حباب
- موج ابروے قضا جس کے تصور سے دو نیم
- موج طوفاں ہو اگر خون دو عالم ہستی
- تو وہ ساقی ہے کہ ہر موج محیط تنزیہہ
- موج مے لیک زسر تا قدم آغوش خمار
- ہر موج گرد راہ مرے سر کو دوش ہے