منہ
28 Misre
- اک منہ ہے کون کون سے ارماں نکالیے
- آگ بھڑکی منہ اگر دم بھر کھلا
- آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
- آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
- منہ نہ کھلنے پر ہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیں
- زلف سے بڑھ کر نقاب اس شوخ کے منہ پر کھلا
- دشنے نے کبھی منہ نہ لگایا ہو جگر کو
- کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا
- ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
- میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں
- آپ ہی ہو نظارہ سوز پردے میں منہ چھپائے کیوں
- بوسہ کو پوچھتا ہوں میں منہ سے مجھے بتا کہ یوں
- منہ نہ دکھلاوے نہ دکھلا پر بہ انداز عتاب
- کرتے کس منہ سے ہو غربت کی شکایت غالبؔ
- مے پرستاں خم مے منہ سے لگائے ہی بنے
- نہ دے جو بوسہ تو منہ سے کہیں جواب تو دے
- منہ چھپانا ہم سے چھوڑا چاہیے
- نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو
- کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ
- دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر
- ہاں منہ سے مگر بادۂ دوشینہ کی بو آئے
- بس چپ رہو ہمارے بھی منہ میں زبان ہے
- کس منہ سے شکر کیجئے اس لطف خاص کا
- خسرو آفاق کے منہ پر کھلا
- غالبؔ منہ بند ہو گیا ہے گویا
- ہمارا منہ ہے کہ دیں اس کے حسن صبر کی داد
- منہ پہ گر جھری پڑے آزنگ جان
- منہ سے کچھ کہنے کو گفتن جانیے