ملے
32 Misre
- نہ ملے داد مگر روز جزا ہے تو سہی
- مزا ملے کہو کیا خاک ساتھ سونے کا
- کبھی تو اس سر شوریدہ کی بھی داد ملے
- کس سے اے غفلت تجھے تعبیر آگاہی ملے
- کیا کمال عشق نقص آباد گیتی میں ملے
- گر ملے حضرت بیدل کا خط لوح مزار
- غالبؔ تمہیں کہو کہ ملے گا جواب کیا
- تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے
- حوران خلد میں تری صورت مگر ملے
- میرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے
- ہر شب پیا ہی کرتے ہیں مے جس قدر ملے
- میرا سلام کہیو اگر نامہ بر ملے
- فرصت کشاکش غم پنہاں سے گر ملے
- جانا کہ اک بزرگ ہمیں ہم سفر ملے
- تم کو کہیں جو غالبؔ آشفتہ سر ملے
- کہ مرے عدو کو یارب ملے میری زندگانی
- شرر اسیر دل کو ملے اوج عرض اظہار
- پی جس قدر ملے شب مہتاب میں شراب
- ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد
- کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
- گر ملے ؔحضرت بیدل کا خط لوح مزار
- کبھی تو اس دل شوریدہ کی بھی داد ملے
- کبھی تو اس دل شوریدہ کی بھی داد ملے
- یا رب ملے بلندیٔ دست دعا مجھے
- پانو س تیرے ملے فرق ارادت اورنگ
- شرر اسیر دل کو ملے اوج عرض اظہار
- ڈھونڈے نہ ملے موجۂ دریا میں روانی
- ملے گی اس کو وہ عقل نہفتہ داں کہ اسے
- دل جبریل کف پا پہ ملے ہے رخسار
- ابر نیساں سے ملے موج گہر کا تاواں
- ہمارے درد کی یارب کہیں دوا نہ ملے
- ملے دو مرشدوں کو قدرت حق سے ہیں دو طالب