مل
13 Misre
- اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں
- تکلف بر طرف مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر
- رگ گردن خط پیمانۂ بے مل تا چند
- سیلی استاد ہے ساغر بے مل ہنوز
- آج ہم حضرت نواب سے بھی مل آئے
- جادۂ منزل ہے خط ساغر مل کے تلے
- قطرہ دریا میں جو مل جاے تو دریا ہو جائے
- خاک میں ناموس پیمان محبت مل گئی
- بس ہجوم ناامیدی خاک میں مل جائے گی
- تکلف بر طرف مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر
- اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں
- میں نے مانا کہ مل گئے پھر کیا
- اب تو مل جائے گی تیری ان سے سانٹھ