مفت
29 Misre
- چار سوے عشق میں صاحب دکانی مفت ہے
- نقد ہے داغ دل اور آتش زبانی مفت ہے
- تندرستی فائدہ اور ناتوانی مفت ہے
- یعنی اے پیر فلک شام جوانی مفت ہے
- برور نکشودۂ دل پاسبانی مفت ہے
- بر ہوس ہاے جہاں دامن فشانی مفت ہے
- حیف ہے ان کو جو سمجھیں زندگانی مفت ہے
- پس بہ دل ہاے و گر راحت رسانی مفت ہے
- شوق مفت زندگی ہے اے بہ غفلت مردگاں
- مفت دل و جگر خلش غمزہ ہاے ناز
- سرمۂ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
- ہے اسدؔ نقصاں میں مفت اور صاحب سرمایہ تو
- میرا نیاز و عجز ہے مفت بتاں اسدؔ
- مفت کا کس کو برا ہے بدرقہ
- تجھے ہم مفت دیویں یک جہاں چین جبیں لیکن
- تراوش شیرۂ انگور کی ہے مفت افشردن
- عرض بساط انجمن رنگ مفت ہے
- مفت صفاے طبع ہے جلوۂ ناز سوختن
- دویدن ریشہ ساں مفت رگ خواب زلیخا ہے
- تماشاے جہاں مفت نظر ہے
- تماشاے گل و گلشن ہے مفت سربجیبی ہا
- جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے
- مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
- سرمۂ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
- دویدن ریشہ ساں مفت رگ خواب زلیخا ہے
- سازہا مفت بہ ریشم کدۂ نالۂ زار
- ہے مفت نگاہ کا مقابل ہونا
- مفت میں ناحق کٹا دیں گے کہیں
- مفت وا گستردنی ہے فرش خواب آئینے پر