معلوم
43 Misre
- اثر کمندی فریاد نارسا معلوم
- غبار نالہ کمیں گاہ مدعا معلوم
- وگر نہ خانۂ آئینہ کی فضا معلوم
- طلسم ناز بجز تنگی قبا معلوم
- متاع خانۂ زنجیر جز صدا معلوم
- بہ مرگ تکیۂ آسایش فنا معلوم
- سراغ یک نگہ قہر آشنا معلوم
- وگر نہ دلبری وعدۂ وفا معلوم
- بہ سختی ہاے قید زندگی معلوم آزادی
- جوہر تیغ بسر چشمۂ دیگر معلوم
- نالہ دام ہوس و درد اسیری معلوم
- زباں سے عرض تمناے خامشی معلوم
- اے اسدؔ دسترس وصل تمنا معلوم
- عرض حیرانی بیمار محبت معلوم
- درد اظہار تپش کسوتی گل معلوم
- صبح سے معلوم آثار ظہور شام ہے
- جوہر تیغ بہ سر چشمۂ دیگر معلوم
- نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدم
- مجھے معلوم ہے جو تو نے میرے حق میں سوچا ہے
- متاع خانۂ زنجیر جز صدا معلوم
- وگرنہ خانۂ آئینہ کی فضا معلوم
- طلسم ناز بجز تنگیٔ قبا معلوم
- بہ مرگ تکیۂ آسائش فنا معلوم
- سراغ یک نگہ قہر آشنا معلوم
- وگرنہ دلبری وعدۂ وفا معلوم
- قید ہستی سے رہائی معلوم
- شیخ جی کعبے کا جانا معلوم
- ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
- نہیں معلوم کس کس کا لہو پانی ہوا ہوگا
- معلوم ہوا حال شہیدان گزشتہ
- بہ سختی ہائے قید زندگی معلوم آزادی
- کم نہیں وہ بھی خرابی میں پہ وسعت معلوم
- غنچہ تا شگفتن ہا برگ عافیت معلوم
- دہن اس کا جو نہ معلوم ہوا
- دوست دار دشمن ہے اعتماد دل معلوم
- حال دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی
- دل کو ہم صرف وفا سمجھے تھے کیا معلوم تھا
- نسیہ و نقد دو عالم کی حقیقت معلوم
- اے اسدؔ دسترس وصل تمنا معلوم
- سال ہجری نو ہو گیا معلوم
- لاف دانش غلط و نفع عبادت معلوم
- عیش بسمل کدۂ عید حریفاں معلوم
- محرم درد گرفتاری مستی معلوم