مشق
26 Misre
- مشق از خود رفتگی سے ہیں بہ گلزار خیال
- زیر مشق شعر ہے نقش از پئے احضار باغ
- یک جہاں گل تختۂ مشق شگفتن ہے اسدؔ
- تپش تو کیا نہ ہوئی مشق پرفشانی بھی
- کہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
- ہوئی ہے بس کہ صرف مشق تمکین بہار آتش
- باوجود مشق وحشت ہا رمیدن منع ہے
- حسن خود آرا کو ہے مشق تغافل ہنوز
- ہمیشہ مجھ کو طفلی میں بھی مشق تیرہ روزی تھی
- ہے مشق اسدؔ دستگہ وصل کی منظور
- اسدؔ باوصف مشق بے تکلف خاک گردیدن
- ہوئی یک عمر صرف مشق نالہ
- گویا کہ تختہ مشق ہیں خط غبار کے
- ہم مشق فکر وصل و غم ہجر سے اسدؔ
- ہے مشق وفا جانتے ہیں لغزش پا تک
- جوں پر طاؤس جوہر تختہ مشق رنگ ہے
- کہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
- ہوئے مشق جرأت ناز رہ و رسم طرح آداب
- ز بسکہ مشق تماشا جنوں علامت ہے
- گویا کہ تختۂ مشق ہیں خط غبار کے
- ہم مشق فکر وصل و غم ہجر سے اسدؔ
- مشق از خود رفتگی سے ہیں بہ گلزار خیال
- ہوئی ہے بس کہ صرف مشق تمکین بہار آتش
- تو مشق باز کر دل پروانہ ہے بہار
- ہوے مشق جرأت ناز رہ و رسم طرح آداب
- اے نگہ تجھ کو کہے کس نقطے میں مشق تسکیں