مشتاق
9 Misre
- سخن کا بندہ ہوں لیکن نہیں مشتاق تحسیں کا
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- میں ہوں مشتاق جفا مجھ پہ جفا اور سہی
- خضرؔ مشتاق ہے اس دشت کے آواروں کا
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
- جنون آئنہ مشتاق یک تماشا ہے
- طبع ہے مشتاق لذت ہاۓ حسرت کیا کروں