مست
27 Misre
- دل میں ہے سوداے زلف مست تغافل ہنوز
- ہے ہوس محمل بدوش شوخی ساقی مست
- اسدؔ ہوں مست دریا بخشی ساقی کوثر کا
- چشم مست یار سے ہے گردن مینا پہ باج
- شب کہ مست دیدن مہتاب تھا وہ جامہ زیب
- ہو جہاں تیرا دماغ ناز مست بے خودی
- اگر ابر سیہ مست از سوے کہسار ہو پیدا
- نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
- بزم مے وحشت کدہ ہے کس کی چشم مست کا
- کہ مست ہے ترے کوچے میں ہر در و دیوار
- مست کب بند قبا باندھتے ہیں
- ہو جہاں تیرا دماغ ناز مست بے خودی
- آئینہ بہ دست بت بد مست حنا ہے
- دیدار بادہ حوصلہ ساقی نگاہ مست
- بسکہ ہیں بد مست بشکن بشکن مے خانہ ہم
- نشہ میں گم کردہ راہ آیا وہ مست فتنہ خو
- چشم مست یار سے ہے گردن مینا پہ باج
- عارف ہمیشہ مست مے ذات چاہیے
- نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
- مے کدہ گر چشم مست ناز سے پاوے شکست
- گر وہ مست ناز دیوے گا صلائے عرض حال
- خوش حال اس حریف سیہ مست کا کہ جو
- فرق ستیزہ مست کو ابر تگرگ بار ایک
- جو آئے جام بھر کے پیے اور ہو کے مست
- بادہ پر زور و نفس مست و مسیحا بیمار
- غنچے کے میکدے میں مست تامل ہے بہار
- غنچۂ لالہ سیہ مست جوانی ہے ہنوز