مزا
9 Misre
مزا ملے کہو کیا خاک ساتھ سونے کا
کچھ تجھ کو مزا بھی مرے آزار میں آوے
تب چاک گریباں کا مزا ہے دل نالاں
بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے
گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
غالبؔ مرے کلام میں کیوں کر مزا نہ ہو
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
م
All Letters