مرے
102 Misre
- ظالم مرے گماں سے مجھے منفعل نہ چاہ
- زخم مثل گل سراپا کا مرے پیرایہ ہے
- جہاں جہاں مرے قاتل کا مجھ پہ احساں ہے
- تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت
- کچھ کھٹکتا تھا مرے سینے میں لیکن آخر
- دشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غم خوار کے پاس
- سیاہی ہے مرے ایام میں لوح دبستاں کی
- سر پر مرے وبال ہزار آرزو رہا
- دوست جو ساتھ مرے تا لب ساحل آئے
- مطرب دل نے مرے تار نفس سے غالبؔ
- کہ ہے دل سوزاں نے مرے پہلو میں جا گرم
- تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت
- ضعف سے اے گریہ کچھ باقی مرے تن میں نہیں
- خوں بھی ذوق درد سے فارغ مرے تن میں نہیں
- قد کے جھکنے کی بھی گنجائش مرے تن میں نہیں
- بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
- ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
- اک کھیل ہے اورنگ سلیماں مرے نزدیک
- اک بات ہے اعجاز مسیحا مرے آگے
- جز وہم نہیں ہستیٔ اشیا مرے آگے
- ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتے
- گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے
- تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے
- بیٹھا ہے بت آئنہ سیما مرے آگے
- رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے
- کیوں کر کہوں لو نام نہ ان کا مرے آگے
- کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
- مجنوں کو برا کہتی ہے لیلیٰ مرے آگے
- آئی شب ہجراں کی تمنا مرے آگے
- آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے
- رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
- غالبؔ کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے
- مرے دام تمنا میں ہے اک صید زبوں وہ بھی
- مرے دریائے بے تابی میں ہے اک موج خوں وہ بھی
- مرے دل میں ہے غالبؔ شوق وصل و شکوۂ ہجراں
- گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی
- کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
- ہوش اڑتے ہیں مرے جلوۂ گل دیکھ اسدؔ
- کہ ہو گئے مرے دیوار و در در و دیوار
- کہ گر پڑے نہ مرے پاؤں پر در و دیوار
- وہ آ رہا مرے ہم سایے میں تو سائے سے
- اجزائے نالہ دل میں مرے رزق ہم ہوئے
- حذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے
- مطرب دل نے مرے تار نفس سے غالبؔ
- کچھ تجھ کو مزا بھی مرے آزار میں آوے
- جو لفظ کہ غالبؔ مرے اشعار میں آوے
- کہ مرے عدو کو یارب ملے میری زندگانی
- یہی بار بار جی میں مرے آئے ہے کہ غالبؔ
- وہ آویں گے مرے گھر وعدہ کیسا دیکھنا غالبؔ
- ہلتے ہیں خودبخود مرے اندر کفن کے پاؤں
- غالبؔ مرے کلام میں کیوں کر مزا نہ ہو
- وہ ستم گر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا
- دی مرے بھائی کو حق نے از سر نو زندگی
- نہ کیوں ہو دل پہ مرے داغ بد گمانی شمع
- جگر کو مرے عشق خوں نابہ مشرب
- داد دیتا ہے مرے زخم جگر کی واہ واہ
- بلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں
- لیتا نہیں مرے دل آوارہ کی خبر
- ہر مو مرے بدن پہ زبان سپاس ہے
- کچھ کھٹکتا تھا مرے سینے میں لیکن آخر
- آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
- ہر موج گرد راہ مرے سر کو دوش ہے
- ظالم مرے گماں سے مجھے منفعل نہ چاہ
- کھلے گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یارب
- مرے بت خانے میں تو کعبہ میں گاڑو برہمن کو
- مرے شاہ سلیماں جاہ سے نسبت نہیں غالبؔ
- تم ماہ شب چار دہم تھے مرے گھر کے
- ایک چکر ہے مرے پانو میں زنجیر نہیں
- رکھ لی مرے خدا نے مری بیکسی کی شرم
- اثر مرے نفس بے اثر میں خاک نہیں
- دشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غم خوار کے پاس
- کاش کے تم مرے لیے ہوتے
- برنگ خار مرے آئنہ سے جوہر کھینچ
- مرے قدح میں ہے صہبائے آتش پنہاں
- کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے
- نہیں دل میں مرے وہ قطرۂ خوں
- نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی
- گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی
- نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے در خور مرے تن میں
- نگین نام شاہد ہے مرے ہر قطرۂ خوں تن میں
- اسدؔ خوشی سے مرے ہاتھ پاؤں پھول گئے
- دیکھنا حالت مرے دل کی ہم آغوشی کے وقت
- کچھ کہہ نہ سکوں پر وہ مرے پوچھنے کو آئے
- کیا بد گماں ہے مجھ سے کہ آئینے میں مرے
- مجھ سے مرے گنہ کا حساب اے خدا نہ مانگ
- بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
- کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ
- یہ لوگ کیوں مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں
- تیری بخشش مرے انجاح مقاصد کی کفیل
- تیرا اقبال ترحم مرے جینے کی نوید
- تیرا انداز تغافل مرے مرنے کی دلیل
- نسبت اک گونہ مرے دل کو ترے ہات سے ہے
- یہی بار بار جی میں مرے آئے ہے کہ غالبؔ
- درد ہوتا ہے مرے دل میں جو توڑوں بالیں
- وصف دلدل ہے مرے مطلع ثانی کی بہار
- پڑی ہے غم کی مرے دل میں پیچ دار گرہ
- ہر موج گرد راہ مرے سر کو دوش ہے
- مرے سر سے کالی بلا باندھتے ہیں
- سب سے یہ گوشہ کنارے ہے گلے لگ جا مرے
- آدمی کو کیوں پکارے ہے گلے لگ جا مرے
- سر سے گر چادر اتارے ہے گلے لگ جا مرے
- مانگ کیا بیٹھا سنوارے ہے گلے لگ جا مرے