مری
54 Misre
- مری ہستی فضاے حیرت آباد تمنا ہے
- مری فریاد کو کہسار ساز عجز نالی ہے
- ہجوم ضبط فغاں سے مری زبان خموش
- ناحق کی حجتیں نہ مری جاں نکالیے
- مری قسمت میں یوں تصویر ہے شب ہاے ہجراں کی
- سرمۂ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
- ان کو کیا علم کہ کشتی پہ مری کیا گزری
- مری محفل میں غالبؔ گردش افلاک باقی ہے
- جو چاہئے نہیں وہ مری قدر و منزلت
- ہرگز کسی کے دل میں نہیں ہے مری جگہ
- ہوئی ہے اس کو مری لاش بے کفن تکیہ
- گر ہو بلد شوق مری خاک کو وحشت
- آئنہ خانہ مری تمثال کو زنجیر ہے
- آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
- لے گئی ساقی کی نخوت قلزم آشامی مری
- مری فریاد کو کہسار ساز عجز مالی ہے
- جاری تھی اسدؔ داغ جگر سے مری تحصیل
- کبھی کودکی میں جس نے نہ سنی مری کہانی
- کبھی پری مری خلوت میں آ نکلتی ہے
- رکھتے ہو تم قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ
- کیوں مری غم خوارگی کا تجھ کو آیا تھا خیال
- اڑتی پھرے ہے خاک مری کوئے یار میں
- جو مری کوتاہیٔ قسمت سے مژگاں ہو گئیں
- مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
- سرمۂ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
- کوئی نہیں تیرا تو مری جان خدا ہے
- تجھ سے قسمت میں مری صورت قفل ابجد
- مری طاقت کہ ضامن تھی بتوں کی ناز اٹھانے کی
- شہادت تھی مری قسمت میں جو دی تھی یہ خو مجھ کو
- رکھ لی مرے خدا نے مری بیکسی کی شرم
- مری ہستی فضائے حیرت آباد تمنا ہے
- یار لائے مری بالیں پہ اسے پر کس وقت
- موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
- مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغ اسیر
- گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئی
- کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے
- مری قسمت میں یارب کیا نہ تھی دیوار پتھر کی
- وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا
- چمن کا جلوہ باعث ہے مری رنگیں نوائی کا
- آنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں گو آئے
- لے لیا مجھ سے مری ہمت عالی نے مجھے
- مری نگاہ میں ہے جمع و خرچ دریا کا
- ہر چند مری جان کو تھا ربط لبوں سے
- یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
- رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور
- خوں ہے مری نگاہ میں رنگ ادائے گل
- تیری دانش مری اصلاح مفاسد کی رہین
- نیک ہوتی مری حالت تو نہ دیتا تکلیف
- جمع ہوتی مری خاطر تو نہ کرتا تعجیل
- غیر کیا خود مجھے نفرت مری اوقات سے ہے
- پر پروانہ مری بزم میں ہے خنجر کیں
- دے دعا کو مری وہ مرتبۂ حسن قبول
- کہ رہیں خون جگر سے مری آنکھیں رنگیں
- واں کے جانے میں مری توقیر آدھی رہ گئی