مرگ
28 Misre
- بہ مرگ تکیۂ آسایش فنا معلوم
- مژدہ باد اے آرزوے مرگ غالبؔ مژدہ باد
- چشم سیہ بہ مرگ نگہ سوگوار تر
- کہ بعد مرگ بھی ہے لذت جگر سوزی
- یہ کیا وحشت ہے اے دیوانے پیش از مرگ واویلا
- مرگ سے وحشت نہ کر راہ عدم پیمودہ ہے
- گر بعد مرگ وحشت دل کا گلا کروں
- تامے کے ساتھ آگیا پیغام مرگ
- غیر کی مرگ کا غم کس لیے اے غیرت ماہ
- مرگ شیریں ہو گئی تھی کوہکن کی فکر میں
- ہزار قافلۂ آرزو بیاباں مرگ
- بس کہ ہوں بعد مرگ بھی نگراں
- غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج
- خیال مرگ کب تسکیں دل آزردہ کو بخشے
- بہ مرگ تکیۂ آسائش فنا معلوم
- اے مرگ ناگہاں تجھے کیا انتظار ہے
- یہ کیا وحشت ہے اے دیوانہ پیش از مرگ واویلا
- جو امیدوار رہیے نہ بہ مرگ ناگہانی
- تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
- اللہ رے ذوق دشت نوردی کہ بعد مرگ
- زبان اہل زباں میں ہے مرگ خاموشی
- خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ
- کرنا تھا جواں مرگ گزارا کوئی دن اور
- گر بعد مرگ وحشت دل کا گلہ کروں
- تھا گریزاں مژۂ یار سے دل تا دم مرگ
- ایک مرگ ناگہانی اور ہے
- جو امیدوار رہیے نہ بہ مرگ ناگہانی
- زندگانی ہے حیات اور مرگ موت