مردمک
14 Misre
- کعبۂ پوشش سیاہ مردمک احرام ہے
- ہے جلوۂ خیال سویداے مردمک
- نہاں ہے مردمک میں شوق رخسار فروزاں سے
- مردمک سے ہے خال بر لب گور
- ضبط سے جوں مردمک اسپند اقامت گیر ہے
- واں سیاہی مردمک ہے اور یاں داغ شراب
- مت مردمک دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں
- جوں مردمک چشم سے ہوں جمع نگاہیں
- سویدا داغ مرہم مردمک ہے چشم سوزن میں
- مردمک ہے طوطیٔ آئینۂ زانو مجھے
- واں سیاہی مردمک ہے اور یاں داغ شراب
- کیوں اسے مردمک دیدۂ عنقا کہیے
- مردمک سے ہو عزا خانۂ اقبال نگاہ
- آنکھ کی پتلی کو کہیے مردمک