مرا
31 Misre
- آپ سے وہ مرا احوال نہ پوچھے تو اسدؔ
- زندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بیزار ہے
- ہمیشہ ہاتھ میں میرے مرا گریباں ہے
- جو بعد قتل مرا دشت میں مزار بنا
- زندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بے زار ہے
- عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام
- جتنے عرصے میں مرا لپٹا ہوا بستر کھلا
- دنیا ہو یا رب اور مرا بادشاہ ہو
- مرا سر رنج بالیں ہے مرا تن بار بستر ہے
- آتش کدہ ہے سینہ مرا راز نہاں سے
- مرا حاصل وہ نسخہ ہے کہ جس سے خاک پیدا ہو
- ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے
- بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
- دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا
- اڑنے سے پیشتر بھی مرا رنگ زرد تھا
- مرا ہر داغ دل اک تخم ہے سرو چراغاں کا
- مرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجان گلشن کو
- لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور
- لرزتا ہے مرا دل زحمت مہر درخشاں پر
- مرا دل مانگتے ہیں عاریت اہل ہوس شاید
- کیا بیاں کر کے مرا روئیں گے یار
- مرا شمول ہر اک دل کے پیچ و تاب میں ہے
- جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر
- روح القدس اگرچہ مرا ہم زباں نہیں
- در معنی سے مرا صفحہ لقا کی داڑھی
- غم گیتی سے مرا سینہ عمر کی زنبیل
- آزادہ رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلح کل
- تو سکندر ہے مرا فخر ہے ملنا تیرا
- دیدۂ گریاں مرا فوارۂ سیماب ہے
- قارورہ مرا خون کبوتر ہے آج
- روزہ مرا ایمان ہے غالبؔ لیکن