مر
24 Misre
- تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔ
- موت بس ان کی ہے جو مر کے وہیں دفن ہوئے
- شاید کہ مر گیا ترے رخسار دیکھ کر
- خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے
- دیکھوں اب مر گئے پر کون اٹھاتا ہے مجھے
- تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔ
- مر جاؤں نہ کیوں رشک سے جب وہ تن نازک
- مر گئے پر دیکھیے دکھلائیں کیا
- دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھا
- ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا
- مر گیا صدمۂ یک جنبش لب سے غالبؔ
- اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
- اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو
- سادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے
- مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے
- تڑپ کر مر گیا وہ صید بال افشاں کہ مضطر تھا
- ورنہ مر جانے میں کچھ بھید نہیں
- مر گیا پھوڑ کے سر غالبؔ وحشی ہے ہے
- ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے
- مر گیا غالبؔ آشفتہ نوا کہتے ہیں
- جو تھا سو موج رنگ کے دھوکے میں مر گیا
- کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
- ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
- مر گئے پر قبر کی تعمیر آدھی رہ گئی