مدعا
34 Misre
- ظاہر کرے ہے جنبش مژگاں سے مدعا
- اقبال کلفت دل بے مدعا رسا
- مدعا گم کردہ ہر سو ہر طرف جلتا ہوں میں
- غبار نالہ کمیں گاہ مدعا معلوم
- مدعا محو تماشاے شکست دل ہے
- جب کہ نقش مدعا ہووے نہ جز موج سراب
- دعاے مدعا گم کردگاں لبریز آمیں ہے
- یعنی سخن کو کاغذ احرام مدعا ہے
- کلفت ربط این و آں غفلت مدعا سمجھ
- عکس کجا و کو نظر نقش کو مدعا سمجھ
- مباداے پیچتاب طبع نقش مدعا گم ہو
- مدعا در پردہ یعنی جو کہوں باطل سمجھ
- تسبیح زاہداں بکف مدعا گرو
- غفلت استعداد ذوق و مدعا غافل اسدؔ
- مدعا محو تماشائے شکست دل ہے
- جنون و یاس و الم رزق مدعا طلبی ہے
- دل مدعی و دیدہ بنا مدعا علیہ
- کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے
- اقبال کلفت دل بے مدعا رسا
- اس کی تو خامشی میں بھی ہے یہی مدعا کہ یوں
- وہ سحر مدعا طلبی میں نہ کام آئے
- مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
- میں گرد راہ ہوں بے مدعا ہے پیچ و خم میرا
- بہ عجز آباد وہم مدعا تسلیم شوخی ہے
- دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا
- ہم سے تیرے کوچے نے نقش مدعا پایا
- کہوں جو حال تو کہتے ہو مدعا کہیے
- یعنی بغیر یک دل بے مدعا نہ مانگ
- میں مدعا ہوں تپش نامۂ تمنا کا
- تجاہل پیشگی سے مدعا کیا
- تا باز گشت سے نہ رہے مدعا مجھے
- میں کون اور ریختہ ہاں اس سے مدعا
- جلوۂ مدعا نظر آیا
- مدعا عرض فن شعر نہیں