مدت
8 Misre
دیدہ خونبار ہے مدت سے ولے آج ندیم
مدت ہوئی ہے دعوت آب و ہوا کیے
مدت ہوئی کہ آشتی چشم و گوش ہے
گزری نہ بہ ہر حال یہ مدت خوش و نا خوش
مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے
مدت ہوئی ہے سیر چراغاں کیے ہوئے
ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے
یہ خرگہ نہ پایۂ جو مدت سے بپا ہے
م
All Letters