محو
33 Misre
- مدعا محو تماشاے شکست دل ہے
- کیوں نہ ہو چشم بتاں محو تغافل کیوں نہ ہو
- امید محو تماشاے گلستاں تجھ سے
- کشاد عقد محو ناخن دست نگاریں ہے
- ہوئی ہے محو بہ تقریب امتحاں فریاد
- ہے عدم میں غنچہ محو عبرت انجام گل
- از بس کہ ہے محو بہ چمن تکیہ زدن ہا
- نغمہ ہے محو ساز رہ نشہ ہے بے نیاز رہ
- محو آرامیدگی سامان بیتابی کرے
- تمنائے زباں محو سپاس بے زبانی ہے
- شرر کیفیت مے سنگ محو ناز مینائی
- واں وہ فرق ناز محو بالش کمخواب تھا
- بس کہ ہے صیاد راہ عشق میں محو کمیں
- ہوتے ہیں محو جلوۂ خور سے ستارگاں
- جو کچھ ہے محو شوخی ابروے یار ہے
- بہ گمرہی سکندر ہے محو حیرانی
- مدعا محو تماشائے شکست دل ہے
- نشہ کے پردے میں ہے محو تماشائے دماغ
- بسکہ ہے وہ قبلۂ آئینہ محو اختراع
- جو کچھ ہے محو شوخی ابروئے یار ہے
- تماشا کہ اے محو آئینہ داری
- جانتا ہے محو پرسش ہاۓ پنہانی مجھے
- محو نسبت ہیں تکلف ہمیں منظور نہیں
- ہے زلیخا خوش کہ محو ماہ کنعاں ہو گئیں
- واں وہ فرق ناز محو بالش کمخواب تھا
- ہے عدم میں غنچہ محو عبرت انجام گل
- زمانہ عہد میں اس کے ہے محو آرایش
- دل کو میں اور مجھے دل محو وفا رکھتا ہے
- تمناۓ زباں محو سپاس بے زبانی ہے
- کیوں نہ ہو چشم بتاں محو تغافل کیوں نہ ہو
- گہر میں محو ہوا اضطراب دریا کا
- محو نسبت ہیں تکلف ہمیں منظور نہیں
- تو صداے پا سے جاگا تھا جو محو خواب ناز