محمل
18 Misre
- عبث محمل آراے رفتار ہیں ہم
- عروج نشہ واماندگی پیمانہ محمل تر
- بہ امید نگاہ خاص ہوں محمل کش حسرت
- غافل تپش مجنوں محمل کش لیلی ہے
- یک دو چیں دامان صحرا پردۂ محمل ہوا
- ہے ہوس محمل بدوش شوخی ساقی مست
- شوق کرے جو سر گراں محمل خواب پا سمجھ
- تھا محمل نگاہ بدوش شرار حیف
- محمل پیمانۂ فرصت ہے بر دوش حباب
- ہنوز محمل حسرت بدوش خود رائی
- شب اختر قدح عیش نے محمل باندھا
- محمل دشت بہ دوش رم نخچیر آیا
- تا آبلہ محمل کش موج گہر آوے
- زبس دوش رم آہو پہ ہے محمل تمنا کا
- تھا محمل نگاہ بہ دوش شرار حیف
- جب بہ تقریب سفر یار نے محمل باندھا
- بسکہ لیلائے سخن محمل نشین راز ہے
- کعبہ و بت کدہ یک محمل خواب رنگیں