محشر
15 Misre
- ہر ایک داغ جگر آفتاب محشر ہو
- ورنہ صد محشر بہ رہن جلوۂ رخسار ہے
- گریۂ طوفاں رکاب نالۂ محشر عناں
- جوش تکلیف تماشا محشر آباد نگاہ
- گرد باد آئنۂ محشر خاک مجنوں
- آفتاب صبح محشر ہے گل دستار دوست
- یہ محشر خیال کہ دنیا کہیں جسے
- ورنہ صد محشر بہ رہن صافیٔ رخسار ہے
- میں معتقد فتنۂ محشر نہ ہوا تھا
- شعاع آفتاب صبح محشر تار بستر ہے
- وائے واں بھی شور محشر نے نہ دم لینے دیا
- مبادا خندۂ دنداں نما ہو صبح محشر کی
- سراغ آوارۂ عرض دو عالم شور محشر ہوں
- ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال
- واے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہو