محابا
7 Misre
اثر سوز محبت کا قیامت بے محابا ہے
دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا
اثر سوز محبت کا قیامت بے محابا ہے
فلک سفلہ بے محابا ہے
نگاہ بے محابا چاہتا ہوں
محابا کیا ہے میں ضامن ادھر دیکھ
گھر پھونکنے میں اپنے محابا نہیں ہم کو
م
All Letters