مجھے
263 Misre
- غالبؔ کچھ اپنی سعی سے کہنا نہیں مجھے
- جوں صبح چاک جیب مجھے تار و پود تھا
- جوں نخل ماتم ابر سے مطلب نہیں مجھے
- ظالم مرے گماں سے مجھے منفعل نہ چاہ
- مجھے شب ہاے تاریک فراق شعلہ رویاں میں
- دہان تنگ مجھے کس کا یاد آیا تھا
- باغ تجھ بن گل نرگس سے ڈراتا ہے مجھے
- چاہوں گر سیر چمن آنکھ دکھاتا ہے مجھے
- ماہ نو ہوں کہ فلک عجز سکھاتا ہے مجھے
- عمر بھر ایک ہی پہلو پہ سلاتا ہے مجھے
- باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
- سایۂ شاخ گل افعی نظر آتا ہے مجھے
- آسماں بیضۂ قمری نظر آتا ہے مجھے
- ہوں میں وہ سبزہ کہ زہراب اگاتا ہے مجھے
- آئنہ خانے میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے
- آئنہ بیضۂ بلبل نظر آتا ہے مجھے
- کس قدر داغ جگر شعلہ اٹھاتا ہے مجھے
- یہ فسون نگہ ناز ستاتا ہے مجھے
- دیکھوں اب مرگئے پر کون اٹھاتا ہے مجھے
- دل پس زانوے آئینہ بٹھاتا ہے مجھے
- ہے زپا افتادگی نشہ بیماری مجھے
- فارغ مجھے نہ جان کہ مانند صبح و مہر
- رکھ فکر سخن میں تو معذور مجھے غالبؔ
- ہر رنگ سوز پردۂ یک ساز ہے مجھے
- بال سمندر آئنۂ ناز ہے مجھے
- طاؤس خاک حسن نظر باز ہے مجھے
- ہر ذرہ چشمک نگہ ناز ہے مجھے
- عرض بہار جوہر پرواز ہے مجھے
- ہر جزو آشیاں پر پرواز ہے مجھے
- جوں داغ شعلہ سر خط آغاز ہے مجھے
- چشم پری شفق کدۂ راز ہے مجھے
- دود چراغ سرمۂ آواز ہے مجھے
- یک نیستاں قلم رو اعجاز ہے مجھے
- ہر مو بدن پہ شہپر پرواز ہے مجھے
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- خالی مجھے دکھلا کے بوقت سفر انگشت
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- کاوش دزدحنا پوشیدہ افسوں ہے مجھے
- ناخن انگشت خوباں نعل واژوں ہے مجھے
- خنجر جلاد برگ بید مجنوں ہے مجھے
- آرزوے بوسۂ لب ہاے مے گوں ہے مجھے
- گردش جام تمنا دور گردوں ہے مجھے
- بدر کے مانند کاہش روز افزوں ہے مجھے
- وا شگفتن ہاے دل در رہن مضموں ہے مجھے
- مجھے اپنے جنوں کی بے تکلف پردہ داری تھی
- رخصت نالہ مجھے دے کہ مبادا ظالم
- بوے یوسف مجھے گلزار سے آتی تھی اسدؔ
- ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب
- پچ آپڑی ہے وعدۂ دلدار کی مجھے
- مجھے راہ سخن میں خوف گمراہی نہیں غالبؔ
- دل نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ
- شکل طاؤس گرفتار بنایا ہے مجھے
- ہوں وہ گلدام کہ سبزے میں چھپایا ہے مجھے
- پر طاؤس تماشا نظر آیا ہے مجھے
- ایک دل تھا کہ بصد رنگ دکھایا ہے مجھے
- آئنہ بیضۂ طوطی نظر آیا ہے مجھے
- موکشاں خانۂ زنجیر میں لایا ہے مجھے
- یک بیاباں دل بیتاب اٹھایا ہے مجھے
- تہ خاکستر صد آئنہ پایا ہے مجھے
- ہوں میں وہ داغ کہ پھولوں میں بسایا ہے مجھے
- ہوں میں وہ چاک کہ کانٹوں سے سلایا ہے مجھے
- ہوں میں وہ خاک کہ ماتم میں اڑایا ہے مجھے
- کس کا دل ہوں کہ دو عالم سے لگایا ہے مجھے
- شوخی نغمۂ بیدل نے جگایا ہے مجھے
- ساز عیش بے دلی ہے خانہ ویرانی مجھے
- توڑنا ہوتا ہے رنگ یک نفس ہر شب مجھے
- نامۂ اعمال ہے تاریکئ کوکب مجھے
- پردہ دار یادگی ہے وسعت مشرب مجھے
- تر جبیں رکھتی ہے شرم قطرہ سامانی مجھے
- موج گرداب حیا ہے چین پیشانی مجھے
- شبنم آسا کو مجال سبحہ گردانی مجھے
- ہے شعاع مہر زنار سلیمانی مجھے
- جنبش نال قلم جوش پر افشانی مجھے
- داغ ہے مہر دہن جوں چشم قربانی مجھے
- ہے گریباں گیر فرصت ذوق عریانی مجھے
- ناخن بریدہ ہے تیغ صفاہانی مجھے
- فکر نے سونپی خموشی کی گریبانی مجھے
- ہر قطرۂ شربت مجھے اشک شکری ہے
- بے لالہ عارضاں مجھے گلگشت باغ میں
- دکھلائے ہے مجھے دو جہاں لالہ زار داغ
- مے کشیدن سے مجھے نشّۂ تریاک چڑھا
- اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے
- خالی مجھے دکھلا کے بہ وقت سفر انگشت
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- عشق میں بیداد رشک غیر نے مارا مجھے
- یہ غزل اپنی مجھے جی سے پسند آتی ہے آپ
- ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حساب
- جز نام نہیں صورت عالم مجھے منظور
- ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
- باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
- سایۂ شاخ گل افعی نظر آتا ہے مجھے
- ہوں میں وہ سبزہ کہ زہراب اگاتا ہے مجھے
- آئنہ خانہ میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے
- آسماں بیضۂ قمری نظر آتا ہے مجھے
- دیکھوں اب مر گئے پر کون اٹھاتا ہے مجھے
- باغ تجھ بن گل نرگس سے ڈراتا ہے مجھے
- چاہوں گر سیر چمن آنکھ دکھاتا ہے مجھے
- آئنہ بیضۂ بلبل نظر آتا ہے مجھے
- کس قدر داغ جگر شعلہ اٹھاتا ہے مجھے
- بہ فسون نگۂ ناز ستاتا ہے مجھے
- دل پس زانوئے آئینہ بٹھاتا ہے مجھے
- مجھے معلوم ہے جو تو نے میرے حق میں سوچا ہے
- رونے سے اے ندیم ملامت نہ کر مجھے
- جوں صبح چاک جیب مجھے تار و پود تھا
- پچ آ پڑی ہے وعدۂ دلدار کی مجھے
- مجھے اس سے کیا توقع بہ زمانۂ جوانی
- مجھے انتعاش غم نے پئے عرض حال بخشی
- مجھے بادۂ طرب سے بہ خمار گاہ قسمت
- مجھے طاقت آزمانی تجھے الفت آزمانی
- کس واسطے عزیز نہیں جانتے مجھے
- زہر لگتی ہے مجھے آب و ہوائے زندگی
- دیکھ کر در پردہ گرم دامن افشانی مجھے
- کر گئی وابستۂ تن میری عریانی مجھے
- مرحبا میں کیا مبارک ہے گراں جانی مجھے
- جانتا ہے محو پرسش ہاۓ پنہانی مجھے
- لکھ دیا منجملۂ اسباب ویرانی مجھے
- اس قدر ذوق نوائے مرغ بستانی مجھے
- لے گیا تھا گور میں ذوق تن آسانی مجھے
- تم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے
- پھر ہوا ہے تازہ سودائے غزل خوانی مجھے
- میرزا یوسف ہے غالبؔ یوسف ثانی مجھے
- یاد کرتا ہے مجھے دیکھے ہے وہ جس جا نمک
- مجھے راہ سخن میں خوف گم راہی نہیں غالب
- رخصت نالہ مجھے دے کہ مبادا ظالم
- بوئے یوسف مجھے گلزار سے آتی تھی اسدؔ
- مجھے رنگ بہار ایجادی بیدل پسند آیا
- پیشوا لینے مجھے گھر سے بیاباں نکلا
- رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
- ہوا جام زمرد بھی مجھے داغ پلنگ آخر
- دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
- قضا نے تھا مجھے چاہا خراب بادۂ الفت
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- ہے مجھے ابر بہاری کا برس کر کھلنا
- ظالم مرے گماں سے مجھے منفعل نہ چاہ
- ہے یوں کہ مجھے درد تہ جام بہت ہے
- گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے
- زمزم ہی پہ چھوڑو مجھے کیا طوف حرم سے
- انکار نہیں اور مجھے ابرام بہت ہے
- رہنے دے مجھے یاں کہ ابھی کام بہت ہے
- بوسہ کو پوچھتا ہوں میں منہ سے مجھے بتا کہ یوں
- کب مجھے کوئے یار میں رہنے کی وضع یاد تھی
- فارغ مجھے نہ جان کہ مانند صبح و مہر
- دل نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ
- لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے
- میرا ذمہ دیکھ کر گر کوئی بتلا دے مجھے
- واں تلک کوئی کسی حیلے سے پہنچا دے مجھے
- کھول کر پردہ ذرا آنکھیں ہی دکھلا دے مجھے
- زلف گر بن جاؤں تو شانے میں الجھا دے مجھے
- فراغت کس قدر رہتی مجھے تشویش مرہم سے
- مجھے اب دیکھ کر ابر شفق آلودہ یاد آیا
- مجھے شب ہائے تاریک فراق شعلہ رویاں میں
- اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے
- غالبؔ گر اس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیں
- مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت
- دشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں
- فلک نہ دور رکھ اس سے مجھے کہ میں ہی نہیں
- دل کو میں اور مجھے دل محو وفا رکھتا ہے
- ولے مجھے تپش دل مجال خواب تو دے
- پر مجھے طاقت سوال کہاں
- خار پا ہیں جوہر آئینۂ زانو مجھے
- ہے نگاہ آشنا تیرا سر ہر مو مجھے
- ہے یہی بہتر کہ لوگوں میں نہ چھیڑے تو مجھے
- ہم زباں آیا نظر فکر سخن میں تو مجھے
- مردمک ہے طوطیٔ آئینۂ زانو مجھے
- چاہیے وقت تپش یک دست صد پہلو مجھے
- ہے غبار شیشۂ ساعت رم آہو مجھے
- جستجوئے فرصت ربط سر زانو مجھے
- مرم زنگار ہے وہ وسمۂ ابرو مجھے
- خوب رویوں نے بنایا غالبؔ بد خو مجھے
- باعث واماندگی ہے عمر فرصت جو مجھے
- کر دیا ہے پا بہ زنجیر رم آہو مجھے
- ہے شکست رنگ امکاں گردش پہلو مجھے
- قامت خم سے ہے حاصل شوخیٔ ابرو مجھے
- پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
- سنبھلنے دے مجھے اے نا امیدی کیا قیامت ہے
- غالبؔ کچھ اپنی سعی سے لہنا نہیں مجھے
- مجھے تو خو ہے کہ جو کچھ کہو بجا کہیے
- کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز
- آتش پرست کہتے ہیں اہل جہاں مجھے
- یاد آ گیا مجھے تری دیوار دیکھ کر
- گرم فریاد رکھا شکل نہالی نے مجھے
- تب اماں ہجر میں دی برد لیالی نے مجھے
- لے لیا مجھ سے مری ہمت عالی نے مجھے
- کر دیا کافر ان اصنام خیالی نے مجھے
- عجب آرام دیا بے پر و بالی نے مجھے
- نشہ بخشا غضب اس ساغر خالی نے مجھے
- رنگ شہرت نہ دیا تازہ خیالی نے مجھے
- کھو دیا سطوت اسماۓ جلالی نے مجھے
- مجھے دماغ نہیں خندہ ہائے بے جا کا
- مجھے جنوں نہیں غالبؔ ولے بقول حضور
- کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقت سخن
- چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر
- شوق دیدار میں گر تو مجھے گردن مارے
- تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
- تو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں
- ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے
- صبح وطن ہے خندۂ دنداں نما مجھے
- جس کی صدا ہو جلوۂ برق فنا مجھے
- تا باز گشت سے نہ رہے مدعا مجھے
- آنے لگی ہے نکہت گل سے حیا مجھے
- شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے
- خجلت گدازیٔ نفس نارسا مجھے
- یاں شعلۂ چراغ ہے برگ حنا مجھے
- بال کشادہ ہے نگۂ آشنا مجھے
- موج غبار سرمہ ہوئی ہے صدا مجھے
- یا رب ملے بلندیٔ دست دعا مجھے
- زنار واگسستہ ہے موج صبا مجھے
- اے جوش عشق بادۂ مرد آزما مجھے
- خون جگر میں ایک ہی غوطہ دیا مجھے
- شرمندہ رکھتے ہیں مجھے باد بہار سے
- غالبؔ مجھے ہے اس سے ہم آغوشی آرزو
- یاد ہے شادی میں بھی ہنگامۂ یا رب مجھے
- سبحۂ زاہد ہوا ہے خندہ زیر لب مجھے
- تھا طلسم قفل ابجد خانۂ مکتب مجھے
- رشک آسائش پہ ہے زندانیوں کی اب مجھے
- آرزو سے ہے شکست آرزو مطلب مجھے
- عشق سے آتے تھے مانع میرزاؔ صاحب مجھے
- توڑنا ہوتا ہے رنگ یک نفس ہر شب مجھے
- نامۂ اعمال ہے تاریکیٔ کوکب مجھے
- پردہ دار یاوگی ہے وسعت مشرب مجھے
- تازہ نہیں ہے نشۂ فکر سخن مجھے
- مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
- کیوں نہ درکار ہو مجھے پوشش
- شاعری سے نہیں مجھے سروکار
- بھاتی نہیں ہے اب مجھے کوئی نوشت خواند
- اپنا بیان حسن طبیعت نہیں مجھے
- کچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے
- ہرگز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے
- مانا کہ جاہ و منصب و ثروت نہیں مجھے
- استاد شہ سے ہو مجھے پرخاش کا خیال
- یہ تاب یہ مجال یہ طاقت نہیں مجھے
- سوگند اور گواہ کی حاجت نہیں مجھے
- جز انبساط خاطر حضرت نہیں مجھے
- دیکھا کہ چارہ غیر اطاعت نہیں مجھے
- مقصود اس سے قطع محبت نہیں مجھے
- سودا نہیں جنوں نہیں وحشت نہیں مجھے
- ہے شکر کی جگہ کہ شکایت نہیں مجھے
- کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے
- مجھے جو بھیجی ہے بیسن کی روغنی روٹی
- نصرت الملک بہادر مجھے بتلا کہ مجھے
- غیر کیا خود مجھے نفرت مری اوقات سے ہے
- کل اس کتاب کے سال تمام میں جو مجھے
- ہوا نہ غلبہ میسر کبھی کسی پہ مجھے
- مجھے انتعاش غم نے پے عرض حال بخشی
- مجھے بادۂ طرب سے بہ خمار گاہ قسمت
- مجھے طاقت آزمانی تجھے الفت آزمانی
- نزع مخمور ہوں اس دید کی دھن میں کہ مجھے
- ہے گرچہ مجھے نکتہ سرائی میں توغل
- ہے گرچہ مجھے سحر طرازی میں مہارت
- ہے مجھے آرزوئے بخشش خاص
- کیا نہ دے گا مجھے مئے گلفام
- جس نے جلا کے راکھ مجھے کردیا تمام
- امر جدید کا تو نہیں ہے مجھے سوال
- بے گریہ کمال ترجبینی ہے مجھے
- در بزم وفا خجل نشینی ہے مجھے
- ابریشم ساز موے چینی ہے مجھے
- نظر آتا ہے یوں مجھے یہ ثمر
- ہنستے ہیں دیکھ دیکھ کے سب ناتواں مجھے
- یہ رنگ زرد ہے چمن زعفراں مجھے
- تا مجھے پہنچائے کاہش بخت بد ہے گھات میں