مجھ
164 Misre
- عزیزو ذکر وصل غیر سے مجھ کو نہ بہلاؤ
- گو یاد مجھ کو کرتے ہیں خوباں
- ہوا نہ مجھ سے بجز درد حاصل صیاد
- کہ صبح عید مجھ کو بدتر از چاک گریباں ہے
- شورش باطن سے یاں تک مجھ کو غفلت ہے کہ آہ
- اے اسدؔ آباد ہے مجھ سے جہان شاعری
- یاں صریر خامہ مجھ کو نالۂ رنجور ہے
- مجھ سے مت کہ تو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی
- یاں صریر خامہ مجھ کو نالۂ جانکاہ ہے
- تھا مجھ کو خار خار جنون وفا اسدؔ
- کاسۂ زانو ہے مجھ کو بیضۂ طاؤس و بس
- کوچۂ یار جو مجھ سے قدم چند رہا
- بطرز گل رگ جاں مجھ کو تار داماں ہے
- جہاں جہاں مرے قاتل کا مجھ پہ احساں ہے
- جنوں نے مجھ کو بنایا ہے مدعی میرا
- یک دست جہاں مجھ سے پھرا ہے مگر انگشت
- جوش دل ہے مجھ سے حسن فطرت بیدل نہ پوچھ
- ہمیشہ مجھ کو طفلی میں بھی مشق تیرہ روزی تھی
- اسدؔ مجھ میں ہے اس کے بوسۂ پا کی کہاں جرأت
- خواب جمعیت مخمل ہے پریشاں مجھ سے
- رگ بستر کو ملی شوخی مژگاں مجھ سے
- کس قدر خانۂ آئینہ ہے ویراں مجھ سے
- عینک چشم بنا روزن زنداں مجھ سے
- چشم نکشودہ رہا عقدۂ پیماں مجھ سے
- چشمک آرائی صد شہر چراغاں مجھ سے
- کاش ہو قدرت برچیدن داماں مجھ سے
- ورنہ کیا ہو نہ سکے نالہ بساماں مجھ سے
- میں ہوں مشتاق جفا مجھ پہ جفا اور سہی
- مجھ کو وہ دو کہ جسے کھا کے نہ پانی مانگوں
- مجھ سے غالبؔ یہ علائیؔ نے غزل لکھوائی
- سرگراں مجھ سے سبک روکے نہ رہنے سے رہو
- مجھ میں اور مجنوں میں وحشت ساز دعوا ہے اسدؔ
- چھیڑو نہ مجھ افسردۂ دزدیدہ نفس کو
- رکھتے ہو مجھ سے اتنی کدورت ہزار حیف
- ہوں خاکسارپر نہ کسی سے ہے مجھ کو لاگ
- جام ہر ذرہ ہے سرشار تمنا مجھ سے
- دوستو مجھ ستم رسیدہ سے
- یک دست جہاں مجھ سے پھرا ہے مگر انگشت
- گریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کو
- زخم سلوانے سے مجھ پر چارہ جوئی کا ہے طعن
- مجھ کو دیتا ہے پیام وعدۂ دیدار دوست
- چپکے چپکے مجھ کو روتے دیکھ پاتا ہے اگر
- مجھ سے مت کہہ تُو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی
- پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا
- نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدم
- وائے دیوانگی شوق کہ ہر دم مجھ کو
- غلام ساقیٔ کوثر ہوں مجھ کو غم کیا ہے
- رکھتے ہو مجھ سے اتنی کدورت ہزار حیف
- اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعد قتل
- مجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو
- اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا
- دے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستم گر
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- طرف سخن نہیں ہے مجھ سے خدا نہ کردہ
- یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے
- کرتے ہو مجھ کو منع قدم بوس کس لیے
- کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھاویں گے کیا
- مجھ سا کافر کہ جو ممنون معاصی نہ ہوا
- میں اسے دیکھوں بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے
- سایہ میرا مجھ سے مثل دود بھاگے ہے اسدؔ
- پاس مجھ آتش بجاں کے کس سے ٹھہرا جائے ہے
- جلے ہے دیکھ کے بالین یار پر مجھ کو
- قاصد پہ مجھ کو رشک سوال و جواب ہے
- مجھ کو ارزانی رہے تجھ کو مبارک ہوجیو
- ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے
- مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
- انداز نالہ یاد ہیں سب مجھ کو پر اسدؔ
- عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
- سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
- مجھ سے کہا جو یار نے جاتے ہیں ہوش کس طرح
- تھا مجھ کو خار خار جنون وفا اسدؔ
- غیر نے کی آہ لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا
- شہادت تھی مری قسمت میں جو دی تھی یہ خو مجھ کو
- مجھ سے تمہیں نفرت سہی نیر سے لڑائی
- شوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو کہ جہاں
- مجھ کو دیار غیر میں مارا وطن سے دور
- عزیزو ذکر وصل غیر سے مجھ کو نہ بہلاؤ
- مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دور جام
- لڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل کہ کیوں اٹھا
- زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستم گر ورنہ
- ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
- مجھ کو پوچھا تو کچھ غضب نہ ہوا
- نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں
- ہزاروں دل دیے جوش جنون عشق نے مجھ کو
- چھوڑا نہ مجھ میں ضعف نے رنگ اختلاط کا
- ہے مجھ کو تجھ سے تذکرۂ غیر کا گلہ
- کبھی نیکی بھی اس کے جی میں گر آ جائے ہے مجھ سے
- جفائیں کر کے اپنی یاد شرما جائے ہے مجھ سے
- کہ جتنا کھینچتا ہوں اور کھنچتا جائے ہے مجھ سے
- عبارت مختصر قاصد بھی گھبرا جائے ہے مجھ سے
- نہ پوچھا جائے ہے اس سے نہ بولا جائے ہے مجھ سے
- کہ دامان خیال یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے
- وہ دیکھا جائے کب یہ ظلم دیکھا جائے ہے مجھ سے
- نہ بھاگا جائے ہے مجھ سے نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے
- وہ کافر جو خدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مجھ سے
- قفس میں مجھ سے روداد چمن کہتے نہ ڈر ہمدم
- اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بعد ہے
- اچھے رہے آپ اس سے مگر مجھ کو ڈبو آئے
- کیا بد گماں ہے مجھ سے کہ آئینے میں مرے
- مجھ سے مرے گنہ کا حساب اے خدا نہ مانگ
- مجھ پہ گویا اک زمانہ مہرباں ہو جائے گا
- باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر
- لے لیا مجھ سے مری ہمت عالی نے مجھے
- بتاؤ اس مژہ کو دیکھ کر کہ مجھ کو قرار
- ہجوم غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے
- کہ صبح عید مجھ کو بد تر از چاک گریباں ہے
- ہر قدم دورئ منزل ہے نمایاں مجھ سے
- میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے
- ہے نگہ رشتۂ شیرازۂ مژگاں مجھ سے
- صورت دود رہا سایہ گریزاں مجھ سے
- کس قدر خانۂ آئینہ ہے ویراں مجھ سے
- صورت رشتۂ گوہر ہے چراغاں مجھ سے
- پُر ہے ساے کی طرح میرا شبستاں مجھ سے
- ہو نگہ مثل گل شمع پریشاں مجھ سے
- سایہ خورشید قیامت میں ہے پنہاں مجھ سے
- آئنہ داریٔ یک دیدۂ حیراں مجھ سے
- ہے چراغاں خس و خاشاک گلستاں مجھ سے
- خواب جمعیت مخمل ہے پریشاں مجھ سے
- رگ بستر کو ملی شوخیٔ مژگاں مجھ سے
- کس قدر خانۂ آئینہ ہے ویراں مجھ سے
- عینک چشم بنا روزن زنداں مجھ سے
- ورنہ کیا ہو نہ سکے نالہ بساماں مجھ سے
- چشم نکشودہ رہا عقدۂ پیماں مجھ سے
- چشمک آرائی صد شہر چراغاں مجھ سے
- کاش ہو قدرت برچیدن داماں مجھ سے
- ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی
- دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور
- بخت ناساز نے چاہا کہ نہ دے مجھ کو اماں
- چرخ کج باز نے چاہا کہ کرے مجھ کو ذلیل
- تم نے مجھ کو جو آبرو بخشی
- کہ ہوا مجھ سا ذرہ ناچیز
- پیر و مرشد اگرچہ مجھ کو نہیں
- مجھ کو دیکھو تو ہوں بقید حیات
- آج مجھ سا نہیں زمانے میں
- قہر ہے گر کرو نہ مجھ کو پیار
- تا نہ ہو مجھ کو زندگی دشوار
- فکر تاریخ سال میں مجھ کو
- دیے ناگاہ مجھ کو دکھلائی
- گو شرف خضر کی بھی مجھ کو ملاقات سے ہے
- مجھ پہ کیا گزرے گی اتنے روز حاضر بن ہوے
- مجھ کو ڈر ہے کہ نہ چھینے ترا لمبر سہرا
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- رنج تعظیم مسیحا نہیں اٹھتا مجھ سے
- کہ جہاں تک چلے اس سے قدم اور مجھ سے جبیں
- راز دل مجھ سے کیوں چھپاتا ہے
- مجھ کو سمجھا ہے کیا کہیں نمام
- مجھ کو کیا بانٹ دے گا تو انعام
- اس قدح کا ہے دور مجھ کو نقد
- تو نہیں جانتا تو مجھ سے سن
- دربار میں جو مجھ پہ چلی چشمک عوام
- اس ناز کا فلک نے لیا مجھ سے انتقام
- مجھ پہ فیض تربیت سے شاہ کے
- مجھ سے گر شاہ سخن گستر کھلا
- بھیجی ہے جو مجھ کو شاہ جمجاہ نے دال
- میں تجھ سے اور مجھ سے تو پوشیدہ
- جن لوگوں کو ہے مجھ سے عداوت گہری
- کہتے ہیں وہ مجھ کو رافضی اور دہری
- مجھ سے کیا پوچھتا ہے کیا لکھیے
- مجھ سے پوچھو تمہیں خبر کیا ہے
- دیکھتا ہوں اسے تھی جس کی تمنا مجھ کو
- آج بیداری میں ہے خواب زلیخا مجھ کو
- تو نے دیکھا مجھ پہ کیسی بن گئی اے راز دار
- ناگہاں یاد آگئی ہے مجھ کو یارب کب کی بات
- دل نے کی ساری خرابی لے گیا مجھ کو ظفر