مجنوں
32 Misre
- مجنوں فسون شعلہ خرامی فسانہ ہے
- غافل تپش مجنوں محمل کش لیلی ہے
- بہار گل دماغ نشۂ ایجاد مجنوں ہے
- کس قدر خاک ہوا ہے دل مجنوں یارب
- خنجر جلاد برگ بید مجنوں ہے مجھے
- عرض خمیازۂ مجنوں ہے گریباں میرا
- لنگر وحشت مجنوں ہے بیاباں میرا
- غم مجنوں عزاداران لیلی کا پرستش گر
- مجنوں فسون شعلہ خرامی فسانہ ہے
- مجھ میں اور مجنوں میں وحشت ساز دعوا ہے اسدؔ
- گرد باد آئنۂ محشر خاک مجنوں
- نالۂ زنجیر مجنوں رشتہ دار نغمہ ہے
- تصرف وحشیوں میں ہے تصور ہاے مجنوں کا
- ذرہ دے مجنوں کے کس کس داغ کو پرواز عرض
- خیمۂ لیلےٰ سیاہ و خانۂ مجنوں خراب
- مجنوں کو برا کہتی ہے لیلیٰ مرے آگے
- تم کو بھی ہم دکھائیں کہ مجنوں نے کیا کیا
- عالم غبار وحشت مجنوں ہے سر بہ سر
- بے پردہ سوئے وادی مجنوں گزر نہ کر
- گردش مجنوں بہ چشمک ہائے لیلیٰ آشنا
- عرض خمیازۂ مجنوں ہے گریباں میرا
- لنگر وحشت مجنوں ہے بیاباں میرا
- مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے
- کس قدر خاک ہوا ہے دل مجنوں یا رب
- مجنوں فسون شعلہ خرامی فسانہ ہے
- کہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوار دبستاں پر
- تصرف وحشیوں میں ہے تصور ہاۓ مجنوں کا
- رگ لیلیٰ کو خاک دشت مجنوں ریشگی بخشے
- میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ
- دست گاہ دیدۂ خوں بار مجنوں دیکھنا
- شوخی اظہار کو جز وحشت مجنوں اسدؔ
- چشم بر چشم چنے ہے بہ تماشا مجنوں