مثل
32 Misre
- کہ مثل ذرہ ہاے خاک آئینے پر افشاں ہیں
- وگر نہ مثل خار خشک مردود گلستاں ہیں
- نہ نکلے خشت مثل استنحواں بیرون قالب ہا
- زخم مثل گل سراپا کا مرے پیرایہ ہے
- دامن تمثال مثل برگ گل تر ہو گیا
- یہ زمیں مثل نیستاں سخت ناوک خیز ہے
- شوق بے پروا کے ہاتھوں مثل ساز نا درست
- موج مے مثل خط جام ہے برجاماندہ
- موج مے مثل خط جام ہے ہر جا ماندہ
- ہر ذرہ مثل جوہر تیغ آبدار تھا
- کہ بہ یک جنبش لب مثل صدا جاتا ہوں
- شاخ گل جلتی تھی مثل شمع گل پروانہ تھا
- آئنۂ نشان حال مثل گل چراغ ہے
- شوخ ہے مثل حباب از خویش بیروں آمدن
- شب دراز و آتش دل تیز یعنی مثل شمع
- ہر ذرہ مثل جوہر تیغ آب دار تھا
- ہجوم فکر سے دل مثل موج لرزے ہے
- کہ مثل غنچہ ساز یک گلستاں دل مہیا ہو
- مثل نقش مدعائے غیر بیٹھا جائے ہے
- سایہ میرا مجھ سے مثل دود بھاگے ہے اسدؔ
- زخم مثل خندۂ قاتل ہے سر تا پا نمک
- مثل گل زخم ہے میرا بھی سناں سے توام
- پرافشاں جوہر آئینے میں مثل ذرہ روزن میں
- مثل دود مجمرہا داغ بال افشاں ہے
- یہ زمیں مثل نیستاں سخت ناوک خیز ہے
- ہو نگہ مثل گل شمع پریشاں مجھ سے
- رکھتا ہو مثل سایۂ گل سر بہ پائے گل
- اے شہنشاہ فلک منظر بے مثل و نظیر
- مثل مضمون وفا باد بدست تسلیم
- سبز مثل خط نوخیز ہو خط پرکار
- ایک دن مثل پتنگ کاغذی
- مثل زخم آنکھوں کو سی دیتا جو ہوتا ہوشیار