مت
41 Misre
- مجھ سے مت کہ تو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی
- اے اسدؔ مایوس مت ہو از در شاہ نجف
- مت رکھ اے انجام غافل ساز ہستی پر غرور
- اسد مت رکھ تعجب خر دماغ ہائے منعم کا
- دیکھیے مت چشم کم سے سوے ضبط افسردگاں
- منع مت کر حسن کی ہم کو پرستش سے کہ ہے
- عالم بے سروسامانی فرصت مت پوچھ
- بے خبر مت کہہ ہمیں بے درد خود بینی سے پوچھ
- اسدؔ مایوس مت ہو گرچہ رونے میں اثر کم ہے
- تقریر کا اس کی حال مت پوچھ
- وسعت جیب جنون تپش دل مت پوچھ
- عشق ترسا بچہ و ناز شہادت مت پوچھ
- بے خبر مت کہہ ہمیں بے درد خود بینی سے پوچھ
- ہم نشیں مت کہ کہ برہم کر نہ بزم عیش دوست
- یا رب ہمیں تو خواب میں بھی مت دکھائیو
- مجھ سے مت کہہ تُو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی
- مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھے
- عشرت قتل گہہ اہل تمنا مت پوچھ
- پوچھ مت وجہ سیہ مستیٔ ارباب چمن
- اسدؔ مت رکھ تعجب خر دماغ ہائے منعم کا
- غلطی ہائے مضامیں مت پوچھ
- اصطلاحات اسیران تغافل مت پوچھ
- دل مت گنوا خبر نہ سہی سیر ہی سہی
- ہمہ یک نفس تپش سے تب و تاب ہجر مت پوچھ
- بہ پیچ و تاب ہوس سلک عافیت مت توڑ
- عالم بے سر و سامانیٔ فرصت مت پوچھ
- پوچھ مت رسوائی انداز استغنائے حسن
- یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گلہ ہوتا ہے
- غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں
- ہاں کھائیو مت فریب ہستی
- مت مردمک دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں
- ہم نشیں مت کہہ کہ برہم کر نہ بزم عیش دوست
- شرح اسباب گرفتاری خاطر مت پوچھ
- چاک مت کر جیب بے ایام گل
- دہلی کے رہنے والو اسدؔ کو ستاؤ مت
- ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔ
- سمجھیو مت کہ پاس درد سے دیوانہ غافل ہے
- مت پوچھ اسدؔ وعدۂ کم فرصتیٔ زیست
- ہمہ یک نفس تپش سے تب و تاب ہجر مت پوچھ
- شور اوہام سے مت ہو شب خون انصاف
- بھول مت اس پر اڑاتے ہیں تجھے