ماہ
37 Misre
- ماہ نو ہوں کہ فلک عجز سکھاتا ہے مجھے
- ہے بیاد زلف مشکیں سال و ماہ
- فلس ماہی آئنہ پرواز داغ ماہ ہے
- ہے فروغ ماہ سے ہر موج اک تصویر چاک
- سحر از بہر شست و شوے داغ ماہ صابوں ہے
- گردش رنگ چمن ہے ماہ و سال عندلیب
- غیر کی مرگ کا غم کس لیے اے غیرت ماہ
- کہ ماہ دزد حناے کف نگاریں ہے
- ماہ کو در تسبیح کواکب جاے نشین امام کیا
- ماہ پر ہالہ صفت حلقۂ فتراک چڑھا
- پیمانہ رات ماہ کا لبریز نور تھا
- پیمانہ رات ماہ کا لبریز نور تھا
- مانا کہ تم بشر نہیں خورشید و ماہ ہو
- چرخ وا کرتا ہے ماہ نو سے آغوش وداع
- رتبے میں مہر و ماہ سے کم تر نہیں ہوں میں
- ہے زلیخا خوش کہ محو ماہ کنعاں ہو گئیں
- ہے فروغ ماہ سے ہر موج اک تصویر چاک
- تم ماہ شب چار دہم تھے مرے گھر کے
- وہ شب و روز و ماہ و سال کہاں
- ماہ نے چھوڑ دیا ثور سے جانا باہر
- میری تنخواہ کیجیے ماہ بماہ
- ہے چار شنبہ آخر ماہ صفر چلو
- ہے جن کے آگے سیم و زر مہر و ماہ ماند
- مہر تاباں کو ہو تو ہو اے ماہ
- جز بہ تقریب عید ماہ صیام
- پھر بنا چاہتا ہے ماہ تمام
- ماہ بن ماہتاب بن میں کون
- ماہ تاباں کا اسم شحنۂ شام
- دو رات میں تمام ہے ہنگامہ ماہ کا
- ستارہ جیسے چمکتا ہوا بہ پہلوے ماہ
- عید شوال و ماہ فرور دیں
- نور مے ماہ ساغر سیمیں
- جلوۂ لولیان ماہ جبیں
- مہر سورج چاند کو کہتے ہیں ماہ
- ماہ چاند اختر ہیں تارے رات شب
- ماہ نو نکلے پہ گزری ہوں گی راتیں پان سات
- اس رخ روشن کے آگے ماہ یک ہفتہ کی رات