لے
36 Misre
- دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو
- کیا کروں غم ہاے پنہاں لے گئے صبر و قرار
- نگاہ چشم حاسد دام لے اے ذوق خود بینی
- لے زمیں سے آسماں تک فرش تھیں بے تابیاں
- آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
- لے گئی ساقی کی نخوت قلزم آشامی مری
- آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
- لے گئے خاک میں ہم داغ تمنائے نشاط
- سراغ تف نالہ لے داغ دل سے
- اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
- لے کے دل دل ستاں روانہ ہوا
- لے گیا تھا گور میں ذوق تن آسانی مجھے
- نگاۂ چشم حاسد وام لے اے ذوق خود بینی
- لے زمیں سے آسماں تک فرش تھیں بیتابیاں
- فریاد کی کوئی لے نہیں ہے
- مگر غبار ہوے پر ہوا اڑا لے جاے
- غالبؔ گر اس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیں
- دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو
- لے تو لوں سوتے میں اس کے پاؤں کا بوسہ مگر
- باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر
- لے لیا مجھ سے مری ہمت عالی نے مجھے
- عدم کو لے گئے دل میں غبار صحرا کا
- لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور
- خضر بھی یاں اگر آجائے تو لے ان کے قدم
- سہل تھا مسہل و لے یہ سخت مشکل آپڑی
- سیہ گلیم ہوں لازم ہے میرا نام نہ لے
- چاند کا دائرہ لے زہرہ نے گایا سہرا
- جسے کہتے ہیں خوشی اس نے بلائیں لے کر
- کہاں مجال سخن سانس لے نہیں سکتا
- لے کے آیا ہے عید کا پیغام
- یہ لے گا بادشہ چیں سے چھین تخت و کلاہ
- ہر رات شمع شام سے لے تا سحر جلے
- پیادہ لے چلیں اور نا سزا کہیں اس کو
- لے کے دل سر رشتۂ آزادگی
- بیٹھ رہتا لے کے چشم پر نم اس کے رو برو
- دل نے کی ساری خرابی لے گیا مجھ کو ظفر