لیے
51 Misre
- آئنہ خانے میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے
- فتنہ تاراج تمنا کے لیے درکار ہے
- میرے لیے تو تیغ سیہ تاب ہو گئی
- غیر کی مرگ کا غم کس لیے اے غیرت ماہ
- فتنہ تاراج تمنا کے لیے درکار ہے
- آئنہ خانہ میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے
- لیے بیٹھا ہے اک دو چار جام واژ گوں وہ بھی
- کہ میری خواب بندی کے لیے ہوگا فسوں وہ بھی
- ہو لیے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھ
- ہے جنوں اہل جنوں کے لیے آغوش وداع
- یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے
- کرتے ہو مجھ کو منع قدم بوس کس لیے
- جب اس کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہ
- جاتا ہوں داغ حسرت ہستی لیے ہوئے
- رات کے وقت مے پیے ساتھ رقیب کو لیے
- سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوری
- کاش کے تم مرے لیے ہوتے
- نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے
- رہی نہ طرز ستم کوئی آسماں کے لیے
- رکھوں کچھ اپنی بھی مژگان خوں فشاں کے لیے
- نہ تم کہ چور بنے عمر جاوداں کے لیے
- بلائے جاں ہے ادا تیری اک جہاں کے لیے
- دراز دستی قاتل کے امتحاں کے لیے
- کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے
- اٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لیے
- کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے
- بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لیے
- کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے
- بنا ہے چرخ بریں جس کے آستاں کے لیے
- بنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لیے
- سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے
- صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے
- غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ اگر
- لیے جاتی ہے کہیں ایک توقع غالبؔ
- سبزہ و گل کے دیکھنے کے لیے
- عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو
- کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں
- وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز
- ایجاد کرتی ہے اسے تیرے لیے بہار
- حق سے کیا مانگیے ان کے لیے جب ہو موجود
- تیری مدحت کے لیے ہیں دل و جاں کام و زباں
- انھیں کی سال گرہ کے لیے سال بسال
- انھیں کی سالگرہ کے لیے بناتا ہے
- انھیں کی سالگرہ کے لیے ہے یہ توقیر
- لا کے ساقی نے صبوحی کے لیے
- لڑکوں کے لیے گیا ہے کیا کھیل نکال
- ہے خلق حسد قماش لڑنے کے لیے
- وحشت کدۂ تلاش لڑنے کے لیے
- ملتے ہیں یہ بدمعاش لڑنے کے لیے
- پروانے کا نہ غم ہو تو پھر کس لیے اسدؔ
- کس لیے تجھ سے چھپاؤں ہاں وہ پرسوں شب کی بات