لیکن
61 Misre
- لیکن اس سے ناگوارا تر ہے بدنامی تری
- شمع ہوں لیکن بپا در رفتہ خار جستجو
- لیکن بسان درد کشیدہ
- سخن کا بندہ ہوں لیکن نہیں مشتاق تحسیں کا
- لیکن بناے عہد وفا استوار تر
- آب گردیدن روا لیکن چکیدن منع ہے
- مانع بادہ کشی نادان ہے لیکن اسدؔ
- ہم غلط سمجھے تھے لیکن زخم دل پر رحم کر
- کچھ کھٹکتا تھا مرے سینے میں لیکن آخر
- دہن شیر میں جا بیٹھیے لیکن اے دل
- لیکن یہ ہم ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- لیکن عبث کہ شبنم خرشید دیدہ ہوں
- خبر لیتے ہیں لیکن بیدلی سے
- گو حوصلہ پا مرد تغافل نہیں لیکن
- لیکن ہنوز دامن آئینہ پاک ہے
- زخم لیکن داغ سے بہتر کھلا
- ہوا ترک لباس زعفرانی دلکشا لیکن
- چمن زار تمنا ہو گئی صرف خزاں لیکن
- تجھے ہم مفت دیویں یک جہاں چین جبیں لیکن
- دریاے مے ہے ساقی لیکن خمار باقی
- لیکن اسدؔ بوقت گزشتن جریدہ ہوں
- اگرچہ پھینک دیا تم نے دور سے لیکن
- لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا
- ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
- یقیں ہے ہم کو بھی لیکن اب اس میں دم کیا ہے
- تجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیم
- لیکن خدا کرے وہ ترا جلوہ گاہ ہو
- لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا
- خیال آساں تھا لیکن خواب خسرو نے گرانی کی
- ہر چند عمر گزری آزردگی میں لیکن
- ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
- کہا ہے کس نے کہ غالبؔ برا نہیں لیکن
- قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکن
- لیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہو گئیں
- لیکن آنکھیں روزن دیوار زنداں ہو گئیں
- کچھ کھٹکتا تھا مرے سینے میں لیکن آخر
- لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
- غیر نے کی آہ لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا
- لیکن یہ بیم ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر
- دہن شیر میں جا بیٹھے لیکن اے دل
- محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے
- یہ کون کہوے ہے آباد کر ہمیں لیکن
- اسدؔ کا قصہ طولانی ہے لیکن مختصر یہ ہے
- تکلف بر طرف نظارگی میں بھی سہی لیکن
- حال دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی
- لیکن عیار طبع خریدار دیکھ کر
- بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
- نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
- قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
- گو تم کو رضا جوئی اغیار ہے لیکن
- جلاد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ہاں اور
- شاد ہوں لیکن اپنے جی میں کہ ہوں
- سامع زمزمۂ اہل جہاں ہوں لیکن
- تجھ میں اور غیر میں نسبت ہے و لیکن بہ تضاد
- ساز عریانی کیفیت دل ہے لیکن
- لیکن اس رشتۂ تحریر میں سر تا سر فکر
- لاکھ عقدے دل میں تھے لیکن ہر ایک
- روزہ مرا ایمان ہے غالبؔ لیکن
- لیکن آخر کو پڑے گی ایسی گانٹھ
- مانتا لیکن ہمارا دل نہیں