لیتا
11 Misre
- اسدؔ کو زیست تھی مشکل اگر نہ سن لیتا
- بادشہ کا نام لیتا ہے خطیب
- لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبق ہنوز
- لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبق ہنوز
- گر مصیبت تھی تو غربت میں اٹھا لیتا اسدؔ
- لیتا نہیں مرے دل آوارہ کی خبر
- لیتا نہ اگر دل تمہیں دیتا کوئی دم چین
- بس کہ لیتا ہوں ہر مہینے قرض
- کہ باج تاج سے لیتا ہے جس کا طرف کلاہ
- ہزبز پنجے سے لیتا ہے کام شانے کا
- گر مصیبت تھی تو غربت میں اٹھا لیتا اسدؔ