لگے
8 Misre
گل کھلے غنچے چٹکنے لگے اور صبح ہوئی
لگے گر سنگ سر پر یار کے دست نگاریں سے
دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگے
کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے
کیا غم خوار نے رسوا لگے آگ اس محبت کو
نظر لگے نہ کہیں اس کے دست و بازو کو
لگے گی اس میں ثوابت کی استوار گرہ
لاٹھی وہ لگے کہ جس میں آواز نہ ہو
ل
All Letters