لگا
21 Misre
- ٹیڑھا لگا ہے قط قلم سر نوشت کو
- دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا
- لگا کے بیٹھتے ہیں اس سے راہ زن تکیہ
- ناگہاں اس رنگ سے خونابہ ٹپکانے لگا
- دینے لگا ہے بوسہ بغیر التجا کیے
- دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا
- تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
- ناگہاں اس رنگ سے خوں نابہ ٹپکانے لگا
- پھر وضع احتیاط سے رکنے لگا ہے دم
- پھر جگر کھودنے لگا ناخن
- ٹیڑھا لگا ہے قط قلم سرنوشت کو
- غنچہ پھر لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل
- سفینہ جب کہ کنارے پہ آ لگا غالبؔ
- یک بار لگا دو خم مے میرے لبوں سے
- دل لگا کر آپ بھی غالبؔ مجھی سے ہو گئے
- ورنہ کیوں لائے ہیں کشتی میں لگا کر سہرا
- اک تسمہ لگا رہا کہ تا روزے چند
- یا لگا کر خضر نے شاخ نبات
- خود بخود کچھ ہم سے کنیانے لگا
- اس قدر بگڑا کے سر کھانے لگا
- صبا لگا وہ طپانچے طرف سے بلبل کی