لکھا
16 Misre
- کچھ نہ کچھ روز ازل تم نے لکھا ہے تو سہی
- ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا
- ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا
- لکھا کرے کوئی احکام طالع مولود
- فقط خراب لکھا بس نہ چل سکا قلم آگے
- تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا
- خط عارض سے لکھا ہے زلف کو الفت نے عہد
- کہتے ہو کیا لکھا ہے تری سر نوشت میں
- صحرا لکھا گیا ز رہ امتثال امر
- عجیب نسخہ نادر لکھا ہے ایک اس نے
- لکھا ہے نسخہ تحفہ یہی ہے سال تمام
- حکم ناطق لکھا گیا کہ لکھیں
- وہ فرد جس میں نام ہے میرا غلط لکھا
- جو واں نہ کہہ سکا وہ لکھا ہے حضور کو
- واں لکھا ہے چہرۂ قیصر کھلا
- میں نے جمنا کا کچھ نہ لکھا حال