لوگ
16 Misre
- آئیں جس بزم میں وہ لوگ پکار اٹھتے ہیں
- وہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے
- لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں
- کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں
- یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں
- لوگ کہتے ہیں کہ ہے پر ہمیں منظور نہیں
- صاف دردی کش پیمانۂ جم ہیں ہم لوگ
- کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ
- اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو
- یہ لوگ کیوں مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں
- دربار دار لوگ بہم آشنا نہیں
- حیدرآباد بہت دور ہے اس ملک کے لوگ
- لکھیں گے لوگ اسے خسرو ستارہ سپاہ
- لوگ جانیں طبلۂ عنبر کھلا
- کہ لوگ جوہر تیغ قضا کہیں اس کو
- پل ہی پر سے پھیر لائے ہم کو لوگ