لطف
27 Misre
- تکلف برطرف ہے جانستاں تر لطف بدخویاں
- مبادا ہو عناں گیر تغافل لطف عام اس کا
- کرے ہے لطف انداز برہنہ گوئی خوباں
- بہر پروردن سراسر لطف گستر سایہ ہے
- بیخود بہ لطف چشمک عبرت ہے چشم صید
- لطف کرم بدولت مہماں اٹھائیے
- نظر بند تصور ہے قفس میں لطف آزادی
- اسدؔ قربان لطف جور بیدل
- دی لطف ہوا نے بہ جنوں طرفہ نزاکت
- لطف نظارۂ قاتل دم بسمل آئے
- ناز لطف عشق با وصف توانائی عبث
- لطف خمار مے کو ہے در دل ہمدگر اثر
- لطف عشق ہریک انداز دگر دکھلائے گا
- دل سے اٹھا لطف جلوہ ہائے معانی
- رقیب پر ہے اگر لطف تو ستم کیا ہے
- ظلم کر ظلم اگر لطف دریغ آتا ہو
- کہ لطف بے تحاشا رفتن قاتل پسند آیا
- لطف کرم بدولت مہماں اٹھائیے
- لطف خرام ساقی و ذوق صدائے چنگ
- غرور لطف ساقی نشۂ بیباکی مستاں
- تماشا کردنی ہے لطف زخم انتظار اے دل
- لطف عشق ہریک انداز دگر دکھلائیے گا
- تکلف بر طرف ہے جاں ستاں تر لطف بد خویاں
- کس منہ سے شکر کیجئے اس لطف خاص کا
- لطف و کرم کے باب میں زینت روزگار ایک
- اے ترا لطف زندگی افزا
- ہے لطف و عنایت شہنشاہ پہ دال