لب
74 Misre
- اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں
- کہ جام بادہ کف بر لب بتقریب تقاضا ہے
- کہ ہے تہ بندی خط سبزۂ خط در تہ لب ہا
- بے سخن تبخالۂ لب دانۂ انگور ہے
- ناخن انگشت بتخال لب بیمار ہے
- موج تبسم لب آلودۂ مسی
- اے جان بر لب آمدہ بے تاب ہو گئی
- زخم جگر ہے تشنۂ لب دوختن ہنوز
- کہ بوسۂ لب شیریں ہے اور گلو سوزی
- لب گزیدۂ معشوق ہے دل افگار
- لب عیسی کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانی
- نہیں ہے کف لب نازک پہ فرط نشہ مے سے
- تبخالۂ لب ہو نہ سکا آبلۂ پا
- تبخالۂ لب ہے جرس آبلۂ پا
- جنبش ہر برگ سے ہے گل کے لب کو اختلاج
- آرزوے بوسۂ لب ہاے مے گوں ہے مجھے
- دل محیط گریہ و لب آشناے خندہ ہے
- صدف دندان گوہر سے بہ حسرت اپنے لب کاٹے
- دوست جو ساتھ مرے تا لب ساحل آئے
- زخم جگر ہے تشنۂ لب دوختن ہنوز
- کہ بہ یک جنبش لب مثل صدا جاتا ہوں
- اثر سرمے سے اور لب ہاے عاشق سے صدا گم ہو
- جاں لب پہ آئی تو بھی نہ شیریں ہوا دہن
- ہر نظر میں داغ مے خال لب پیمانہ تھا
- کہ خط سبز تا پشت لب سوفار ہو پیدا
- آجا لب بام کوئی کب تک
- داد خواہ تپش و مہر خموشی بر لب
- کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ
- مردمک سے ہے خال بر لب گور
- لب خشک صدف آب گہر سے تر نہیں ہوتا
- مہر بجاے نامہ لگائی بر لب پیک نامہ رساں
- بوسۂ لب سے ملی طبع کو کیفیت حال
- بخیۂ زخم جگر خندۂ زیر لب تھا
- لب نگار میں آئینہ دیکھ آب حیات
- کب تلک پھیرے اسدؔ لب ہاے تفتہ پر زباں
- ناخن انگشت بت خال لب بیمار ہے
- لب قدح پہ کف بادہ جوش تشنہ لبی ہے
- اب بے خبراں میرے لب زخم جگر پر
- ہے مکرر لب ساقی پہ صلا میرے بعد
- سینہ کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیا
- کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
- مر گیا صدمۂ یک جنبش لب سے غالبؔ
- دل بہ دل پیوستہ گویا یک لب افسوس تھا
- کام یاروں کا بہ قدر لب و دنداں نکلا
- لب تک آتا ہے جو ایسا ہی رسا ہوتا ہے
- دل محیط گریہ و لب آشناۓ خندہ ہے
- ہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے
- زخم جگر ہے تشنۂ لب دوختن ہنوز
- لب خشک در تشنگی مردگاں کا
- سخن ہوں سخن بر لب آوردگاں کا
- لب عیسیٰ کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانی
- جنبش ہر برگ سے ہے گل کے لب کو اختلاج
- مانگے ہے پھر کسی کو لب بام پر ہوس
- کہ جام بادہ کف بر لب بہ تکلیف تقاضا ہے
- دکھا کے جنبش لب ہی تمام کر ہم کو
- کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ
- یاس کو دو عالم سے لب بہ خندہ وا پایا
- رحمت کہ عذر خواہ لب بے سوال ہے
- کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ
- لب پردہ سنج زمزمۂ الاماں نہیں
- کب تلک پھیرے اسدؔ لب ہائے تفتہ پر زباں
- طاقت لب تشنگی اے ساقیٔ کوثر نہیں
- بات کرتے کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا
- اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں
- اے واے نالۂ لب خونیں نوائے گل
- سبحۂ زاہد ہوا ہے خندہ زیر لب مجھے
- اے زمزمۂ قم لب عیسی پہ فغاں ہو
- گر لب کو نہ دے چشمۂ حیواں سے طہارت
- استادہ ہو گئے لب دریا پہ جب خیام
- پشت لب تہمت خط کھینچے ہے بے جا یعنی
- سبزہ نہ چمن ویک خط پشت لب بام
- کھینچے خمیازے میں تیرے لب ساغر کا خمار
- شہید تشنہ لب کربلا کہیں اس کو
- دانت دنداں ہونٹ کو کہتے ہیں لب