كا
13 Misre
- ظاہراً کاغذ ترے خط كا غلط بردار ہے
- ہے وہی بد مستی ہر ذرہ كا خود عذر خواہ
- اچھا ہے سر انگشت حنائی كا تصور
- شور ہے کس بزم کی عرض جراحت خانہ كا
- قیامت ہے کہ سن لیلی كا دشت قیس میں آنا
- بیٹھنا اس كا وو آ کر تری دیوار کے پاس
- نہ پوچھ نسخۂ مرہم جراحت دل كا
- لکھنؤ آنے كا باعث نہیں کھلتا یعنی
- جلوے كا تیرے وہ عالم ہے کہ گر کیجے خیال
- وائے ناکامی کہ اس کافر كا خنجر تیز ہے
- ہر غنچہ كا گل ہونا آغوش کشائی ہے
- ظاہر كا یے پردہ ہے کہ پردہ نہیں کرتے
- عشق كا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں