قفس
20 Misre
- وہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے
- پر افشاندہ در کنج قفس تعویز بازو ہے
- صبح بہار بھی قفس رنگ و بو نہ ہو
- خوں ہو قفس دل میں اے ذوق پر افشانی
- اسدؔ طلسم قفس میں رہے قیامت ہے
- باندھتا ہے رنگ گل آئینہ تا چاک قفس
- یک پر زدن تپش میں ہے کار قفس تمام
- دام خالی قفس مرغ گرفتار کے پاس
- نظر بند تصور ہے قفس میں لطف آزادی
- کاش کے ہوتا قفس کا در کھلا
- منقار سے رکھتا ہوں بہم چاک قفس کو
- قمری کف خاکستر و بلبل قفس رنگ
- گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے
- قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو
- وہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے
- دام خالی قفس مرغ گرفتار کے پاس
- کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے
- قفس میں مجھ سے روداد چمن کہتے نہ ڈر ہمدم
- بیضہ آسا ننگ بال و پر ہے یہ کنج قفس
- آشیانہ گھونسلہ پنجرہ قفس